عقل کا مسئلہ
Al-Risala, April 2019, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل (reason) کیا ہے عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے عقل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ میں نے کوئی مخلوق نہیں پیدا کی۔ جو میرے نزدیک تم سے زیادہ افضل ہو (ما خلقت خلقا... أكرم علي منك) نوادر الاصول، الحکیم الترمذی، جلد 2، صفحہ 353۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے۔ کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں۔ عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہو جائے وہ نہ حق کو حق سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل۔ عقل بذات خود معیار (criterion) نہیں ہے۔ عقل، فہم و ادراک کی صلاحیت (ability) ہے۔ عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات حج کی نہیں۔ عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے: Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises. عقل اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلا شبہ ایک غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذات خود کوئی ذریعہ علم نہیں۔ کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتا ہے تو وہ بھی یہی کرتا ہے کہ وہ اپنی خدا داد عقل کو استعمال کر کے اُس پر غور کرتا ہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے۔ اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مدِّ مقابل۔ عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا۔ انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود ساختہ طور پر یہ دعوی کیا کہ عقل بذات خود حصول علم کا معیاری ذریعہ ہے۔ مذہبی طبقے نے اس تصور عقل
کو درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طور پر عقل یا عقلی غور و فکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اس طرح کی غیر علمی باتیں کرنے لگے ۔ عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ۔ عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہو جاتا ہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ۔ قرآن میں 'عقل‘ کا مادہ (root word) تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: اِنَّا أَنْزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ یعنی ہم نے اس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تا کہ تم سمجھو: We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason). اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو (یونس، 10:16)، وغیرہ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت ۔ کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اُنھیں میں سے ایک صلاحیت عقل ہے، جس کے ذریعے انسان سوچنے اور تجزیہ کرنے کا کام لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی۔ عقل انسان کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ ڈیٹا (data) جمع کرے، اور پھر حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ تاہم عقل بذاتِ خود علم کا ذریعہ نہیں، اس لیے عقل صحیح فیصلہ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور غلط فیصلے تک بھی۔ جو لوگ عقل کو بذاتِ خود علم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل عقلی مدرسہ فکر (school of thought) کے انتہا پسند (extremists) لوگ ہیں۔ انتہا پسند لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ خود مذہب اور عقیدے کے دائرے میں بھی۔