اسلام دورِ جدید میں
Al-Risala, April 2019, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
امیر شکیب ارسلان (1946-1869) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم (مسلمان کیوں پیچھے ہو گئے اور ان کے سوا دوسرے کیوں آگے ہو گئے) یہ کتاب 50 سال پہلے چھپی تھی۔ اس کے بعد میں نے ایک عربی مجلہ رابطہ العالم الاسلامی (اپریل 1985) میں ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون کا عنوان دوبارہ حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : لماذا تأخرنا وتقدم غيرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان پچھلی نصف صدی سے ایک ہی سوال سے اور وہ سوال یہ ہے کہ ہم جدید دور میں دوسری قوموں سے کیوں پیچھے ہو گئے۔ قومیں ہم سے آگے کیوں نکل گئیں۔ مزید عجیب بات یہ ہے کہ اسی نصف صدی کے اندر جاپان ایٹمی بربادی کے کھنڈر سے ابھرا اور ترقی کی انتہا پر پہنچ گیا۔ چنانچہ امریکہ میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے جاپان نمبر ایک :
Japan as Number One: Lessons for America by Ezra Vogel موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ انجام کسی موہوم سبب کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ معلوم خدائی قانون کی بنا پر ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں ترقی اور استحکام نصیب ہو، اور جو گروہ نفع بخشی کی صلاحیت کھودے اس کو ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیا جائے۔ قدیم زمانہ کے مسلمان اہل عالَم کے لیے نفع بخش بنے ہوئے تھے اس لیے قدیم زمانہ میں انھیں عظمت حاصل ہوئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بے نفع ہو گئے۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں انھیں کوئی عظمت حاصل نہ ہو سکی۔ عروج و زوال کا یہ اصول قرآن کی حسب ذیل آیت میں واضح طور پر موجود ہے:
أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَداً رَابِياً وَمِمَّا يُوقِدُونَ
عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعِ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۚ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ یعنی اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جو گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو دنیا میں بقا اور استحکام ملے۔ اور جو گروہ اپنی نفع بخشی کھودے وہ یہاں بے قیمت ہو کر رہ جائے۔
اس عالمی قانون کو ایک طرف کتاب الہی میں لفظی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مادی دنیا میں اس کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ سورۂ رعد کی مذکورہ آیت میں اس نوعیت کی دو مثالیں دی گئی ہیں۔ ایک مثال بارش کی ہے۔ بارش ہوتی ہے اور اس سے نالے بھرتے ہیں تو جھاگ اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ جھاگ تو ہوا میں اڑ جاتا ہے اور جو چیز اس میں نفع بخش ہے وہ باقی رہتی ہے، یعنی پانی۔
دوسری مثال دھات کی ہے۔ دھات کو جب آگ پر پگھلایا جاتا ہے، تو ابتداء اس کا میل کچیل اوپر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مگر بہت جلد یہ وقتی منظر ختم ہو جاتا ہے اور جو اصل قیمتی دھات ہے وہ اپنی جگہ باقی رہ جاتی ہے۔