دورِ اول کی مثال
Al-Risala, April 2019, pp. 29–37
By Maulana Wahiduddin Khan
دور قدیم میں اسلام کو غیر معمولی عظمت ملی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک اسلام کو آباد دنیا کے قائد کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
یہ عظیم حیثیت اتفاقاً نہیں ملی اور نہ مطالبات کے ذریعہ اس کو یہ حیثیت حاصل ہوئی ۔ اس کی وجہ قدرت کا وہی ابدی قانون تھا جس کا اوپر ذکر ہوا، یعنی نفع بخشی اور فیض رسانی۔ دنیا کو اسلام سے جو کچھ ملا، اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسلام نے دنیا کو تو ہمات (superstitions) کے دور سے نکالا اور اس کو پہلی بار سائنس کے دور میں داخل کیا۔ آج کی دنیا جس چیز کو اپنے لیے سب سے بڑی نعمت سمجھتی ہے وہ سائنس ہے۔ محققین اور منصف مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دراصل اسلام ہے جس نے سائنس کے دور کو پیدا یہاں ہم صرف ایک مغربی مصنف مسٹر بریفالٹ کا قول نقل کریں گے۔ وہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر چہ یورپی ترقی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کی فعال اثر انگیزی دیکھی نہ جا سکتی ہو۔ مگر وہ سب سے زیادہ واضح اس قوت کی پیدائش میں ہے جو جدید دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یعنی طبیعی سائنس اور سائنسی اسپرٹ۔ ہماری سائنس پر عربوں کا قرض انقلابی نظریات کی دریافت کی حد تک نہیں ہے۔ سائنس اس سے کہیں زیادہ عرب تہذیب کی احسان مند ہے، وہ خود اپنے وجود کے لیے اس کی مرہون منت ہے: For although there is not a single aspect of European growth in which the decisive influence of Islamic culture is not traceable, nowhere is it so clear and momentous as in the genesis of that power which constitutes the permanent distinctive force of the modern world, and the supreme source of its victory-natural science and the scientific spirit... The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries of revolutionary theories; science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. (Briffault: Making of Humanity, London, 1919, pp. 190-91)
یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم زمانہ میں تمام دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ تمام قومیں بے شمار دیوتاؤں کو پوجتی ہیں۔ ہندوستانی روایات کے مطابق ان کی تعدد 33 کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں تعداد آلہہ کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے کہ مذاہب میں عمومی
طور پر یہ بات پائی گئی ہے کہ فطرت کی طاقتوں اور فطرت کے مظاہر کو خدا مان لیا جاتا ہے۔ آسانی کے ساتھ ان کو تین قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے ۔ آسمانی، فضائی اور زمینی۔ یہی تقسیم بجائے خود ہند آریائی مذہب میں تسلیم کی گئی ہے، چنانچہ سورج ان کے یہاں آسمانی خدا ہے۔ اندر فضائی خدا ہے جو طوفان ، بارش اور جنگ لانے والا ہے۔ اگنی (آگ کا دیوتا) زمینی واقعات کا سبب ہے: A widespread phenomenon in religions is the identification of natural forces and objects as divinities. It is convenient to classify them as celestial, atmospheric, and earthly. This classification itself is explicitly recognized in Indo-Aryan religions: Surya, the sun god, is celestial; Indra, associated with storms, rain, and battles, is atmospheric; and Agni, the fire god, operates primarily at the earthly level (14/785)
اسلام سے پہلے انسان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر چیز کو پوجتا تھا۔ وہ سورج اور چاند سے لے کر دریا اور پہاڑ تک ہر چیز کے آگے جھکتا تھا۔ درختوں میں اس نے درخت خدا (plant deities) اور جانوروں میں اس نے جانور خدا (animal deities) بنا رکھے تھے۔ دنیا کی تمام چیزیں معبود بنی اور انسان ان کا عبادت گزار۔ اس طرح انسان نے اپنی عظمت کھودی تھی۔ ذریعہ تاریخ میں جو انقلاب آیا اس نے پہلی بار انسان کو اس کی عظمت عطا کی۔ شرک (بالفاظِ دیگر مظاہر فطرت کی پرستش) کا رواج قدیم زمانہ میں سائنسی ترقیوں میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ انسان فطرت کے مظاہر کو معبود سمجھ کر انھیں تقدس کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کے اندر یہ جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ ان مظاہر کی تحقیق کرے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔ فطرت کے مظاہر جب پرستش کا موضوع بنے ہوئے ہوں تو اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع نہیں بن سکتے۔ یہ بنیادی سبب تھا جو طبیعی سائنس کا دور شروع ہونے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار اس سبب کو ختم کیا، اس لیے اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ طبیعی سائنس کا دور شروع ہو اور بالاخر اس حد کو پہنچا جہاں ہم آج اس کو دیکھ رہے ہیں۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ دراصل توحید (Monotheism) کا عقیدہ ہے
جس نے جدید سائنس اور صنعتی دور کو پیدا کیا۔ کیوں کہ توحید کے انقلاب سے پہلے دنیا میں عملی طور پر شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کے عقیدہ کے تحت آدمی فطرت (Nature) کو پوجنے کی چیز سمجھے ہوئے پھر وہ اس کو تحقیق و تسخیر کی چیز کیسے سمجھتا۔ جب کہ فطرت کو تحقیق اور تسخیر کی چیز سمجھنے کے بعد ہی اس علم کا آغاز ہوتا ہے جس کو طبیعی سائنس کہتے ہیں۔
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں (مظاہرِ فطرت) پر غور کرو۔ قرآن میں اس قسم کی سات سو آیتیں شمار کی گئی ہیں جن میں مظاہرِ فطرت پر غور کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر بالواسطہ آیتوں کو بھی شامل کیا جائے تو ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ جائے گی۔ معلوم انسانی تاریخ میں بالکل نئی آواز تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مظاہرِ فطرت کو پوجے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہزاروں برس سے انسان صرف یہ جانتا تھا کہ مظاہرِ فطرت پوجنے کی چیزہیں، وہاں قرآن نے یہ آواز بلند کی کہ مظاہرِ فطرت اس لیے ہیں کہ ان پر غور کیا جائے، اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو دریافت کیا جائے۔
اسلام کا یہ پیغام صرف پیغام نہ رہا بلکہ سو سال کے اندر ہی وہ ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ نے اولاً عرب کے دل و دماغ کو فتح کیا۔ پھر وہ ایشیا اور افریقہ اور یورپ تک پہنچ گیا۔ عرب کے بت خانے ختم کردئیے۔ ایرانی اور رومی شہنشاہتیں اس زمانہ میں شرک کی سب سے بڑی سر پرست تھیں، دونوں کو اسلام نے مغلوب کر لیا اور توحید کا غلبہ تقریباً پوری آباد دنیا میں قائم کر دیا۔ اسلام کی اس نفع بخشی کو تمام منصف مزاج مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا ایک پیرا گراف نقل کرتے ہیں:
7th 10th, (16/368)
اسلامی تہذیب کا تعلق یورپی سائنس سے بہت زیادہ ہے۔ عربی زبان بولنے والے علاقوں اور لاطینی یورپ کے درمیان نہایت گہرا ربط قائم تھا۔ پیغمبر کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں۔ اور دسویں صدی تک یہ حال ہوگیا کہ عربی زبان ایران سے لے کر اسپین تک کی تمام قوموں کی علمی زبان بن گئی۔ عرب فاتحین جہاں گئے وہاں عام طور پر وہ امن اور خوش حالی قرآن کے ذریعہ عالمی سطح پر جو فکری انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار نئی قسم کی سرگرمیاں شروع کردیں۔ انسان نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جو پوجنے کی چیز نہیں بلکہ برتنے کی چیز تھی، جس کا وہ تابع نہ تھا بلکہ وہ اس کے لیے مسخر کی گئی تھی کہ وہ اس کو اپنا تابع بنائے۔ چنانچہ اسلام کے عظیم الشان اعتقادی انقلاب کے ساتھ ایک عظیم الشان علمی اور ذہنی انقلاب بھی شروع ہو گیا۔ اسلام کے ماننے والوں نے جب ایک قادر مطلق خدا کو پایا تو اسی کے ساتھ انھوں نے دوسری تمام چیزوں کو بھی پالیا۔ انھوں نے ہر میدان میں ترقیاں شروع کر دیں۔ دنیا کو وہ چیزیں ملنے لگیں جو ابھی تک اس کو نہیں ملی تھیں۔ چنانچہ اس دور میں پیدا ہونے والی جتنی بھی قابلِ ذکر ترقیاں ہیں ان کا مطالعہ کیجیے تو ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی مسلمان کا ہاتھ کام کرتا نظر آئے گا۔ چند تاریخی حوالے توحید اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ توحید کو اختیار کرنے کی وجہ سے دورِ اول کے مسلمانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ دنیا والوں کے درمیان ایک ایسی برادری بن کر ابھریں جن کا ہر طرف استقبال کیا جائے اور جن سے دنیا والوں کو ہر قسم کا نفع حاصل ہو۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں چند مثالیں درج کریں گے۔
اسلامی انقلاب کے بعد کئی سو سال ایسے گزرے ہیں جب مسلمان ساری دنیا میں علم طب کے امام تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگ مسلم اطباء سے رجوع کرتے تھے، اور طب میں مسلمانوں کی تصنیفات ہر جگہ فن طب کا ماخذ بنی ہوئی تھیں۔ یورپ کا سب سے پہلا میڈیکل کالج سارنو (اٹلی) میں قائم ہوا۔ یہ میڈیکل کالج گیارھویں صدی عیسوی میں قائم ہوا تھا۔ اس کا نصاب بڑی حد تک ان
طبی کتابوں پر مشتمل تھا جو عربی زبان سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئی تھیں ۔ (1984) نے اس کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یورپ میں بارہویں صدی نے عربی سے لاطینی میں کتابوں کے ترجمہ کا ایک ہیرو دوانہ پروگرام دیکھا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ یورپ کا ابتدائی طبی اسکول جوسلرنو میں قائم ہوا اور دوسرا جو مانٹ پیلییر میں قائم ہوا، دونوں عربی اور یہودی ماخذوں سے بہت قریب تھے:
The 12th Century saw a heroic program of translation of works from Arabic to Latin. It is significant that the earliest medical school in Europe was at Salerno and that it was later rivaled by Montpellier, also close to Arabic and Jewish sources (16/368)
پروفیسر ہٹی نے اس سلسلہ میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ الزہراوی کی کتاب (التصريف لمن اعجز عن التالیف) کا سرجری سے متعلق حصہ گیرارڈ آف کریمونا نے عربی سے لاطینی میں ترجمہ کیا۔ یورپ میں اس کے مختلف ایڈیشن چھپے ۔ وینس میں 1497 میں، بیسل میں 1541 میں، آکسفورڈ میں 1778 میں۔ یہ ترجمہ صدیوں تک سلر نو اور مانٹ پیلییر اور دوسرے یورپی طبی اداروں میں نصاب تعلیم کا جز بنارہا:
This surgical part was translated into Latin by Gerard of Cremona and various editions were published at Venice in 1497, at Basel in 1541 and at Oxford in 1778. It held its place for centuries as the manual of surgery in Salerno, Montpellier and other early schools of medicine (P. K. Hitti, History of the Arabs. 1979, p. 577)
آج آپ جدید طرز کے کسی اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز آپ کو مغربی تہذیب کا عطیہ نظر آئے گی۔ مگر چند سو سال پہلے یہ حال تھا کہ آپ وقت کے کسی معیاری اسپتال یا کسی میڈیکل کالج میں داخل ہوں تو وہاں کی ہر چیز اسلامی تہذیب کا عطیہ نظر آتی تھی۔ وہ بنیادی فرق جو مسلمانوں کے ماضی اور ان کے حال میں پیدا ہو گیا ہے۔
2- جغرافیہ ایک بے حد اہم سائنس ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے بے شمار شعبوں سے ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے اس فن میں بھی کمال پیدا کیا۔ مثال کے طور پر الادریسی اپنے زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑا جغرافی عالم تھا۔ پروفیسر فلپ ہٹی نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: The most distinguished geographer of the Middle Ages. یعنی قرون وسطیٰ کا سب سے زیادہ ممتاز جغرافیہ داں۔ الادریسی کے زمانہ میں راجر دوم سسلی کا بادشاہ تھا۔ اس کو ایک جغرافی نقشہ کی ضرورت ہوئی تو اس کو یہ نقشہ جس نے بنا کر دیا وہ یہی فلپ ہٹی نے مزید لکھا ہے:
The most brilliant geographical author and cartographer of the twelfth century, indeed of all medieval time, was al-Idrisi, a descendant of a Spanish Arab family who got his education in Spain. (P. K. Hitti, History of the Arabs, 1979,
بارھویں صدی عیسوی کا سب سے زیادہ باکمال جغرافی مصنف اور نقشہ نویس، بلکہ پورے قرون وسطیٰ کا سب سے بڑا جغرافی عالم بلاشبہ الادریسی تھا۔ وہ اسپین کے ایک اعلیٰ عرب خاندان میں پیدا ہوا، اور اس کی تعلیم اسپین میں ہوئی۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ الادریسی نے 1154ء میں سسلی کے مسیحی حکمراں (راجر دوم) کے لیے ایک عالمی نقشہ بنایا۔ اس میں ایشیائی علاقوں کی زیادہ بہتر معلومات دی گئی تھیں جو اس وقت تک ابھی انسان کو حاصل نہ ہوئی تھیں: Al-Idrisi constructed a world map in AD 1154 for the Christian king Roger of Sicily, showing better information on Asian areas than had been available theretofore. (11/472)
موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں میں مغرب کے ماہرین (experts) بھرے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کہ مسلمان ہر شعبہ کے ماہرین دنیا کو فراہم کر رہے تھے۔ آج مسلمان دنیا والوں سے لے رہے ہیں، مگر چند سال پہلے یہ حال تھا کہ مسلمان دنیا کو دینے والے بنے ہوئے تھے۔
عجیب فرق ہے ماضی میں اور حال میں۔
آج مسلم ملکوں کے نوٹ اور سکے مغربی ممالک تیار کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسلم ملک خود اپنا سکہ یا نوٹ تیار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی وہ مغربی ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ وقت تھا کہ یہ مقام خود مسلمانوں کو عالمی سطح پر حاصل تھا۔
ڈیوس (H.W.C. Davis) نے اپنی کتاب قرون وسطیٰ کا انگلستان (Medieval England) میں انگلستان کے ایک قدیم سنہرے سکہ کی تصویر اس کے دونوں رخ سے چھاپی ہے۔ یہ سکہ برٹش میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ تصویر میں واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ سکہ کے ایک طرف عربی رسم الخط میں کلمہ شہادت لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف اس وقت کے انگلستان کے بادشاہ او فاری کس (Offa Rex) کا نام کندہ ہے۔ اسی کے ساتھ سکہ پر بغداد کے مسلمان سکہ گر کا نام بھی درج ہے۔ سکہ کی تصویر کے نیچے پروفیسر ڈیوس نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: Anglo-Saxon gold coin imitating an Arab Dinar of the year 774. یعنی قدیم انگلستان کا سونے کا سکہ جو 774ء میں ڈھالا گیا اور جس میں ایک عرب دینار کی نقل کی گئی ہے۔ یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعتی ترقی کے اس مقام پر تھے کہ انگلستان کے نامور بادشاہ او فاکس (وفات: 796ء) کو ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے مسلم ماہرین کو بلائے۔ اس وقت انگلستان میں جو سکہ ڈھالا گیا وہ مسلم ممالک کے سکہ (دینار) کی نقل تھا۔ حتیٰ کہ مسلم سکوں کی طرح اس پر کلمہ شہادت بھی عربی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہزار برس پہلے کے دور میں اسلامی تہذیب ساری دنیا میں کس قدر غالب حیثیت رکھتی تھی۔
واسکوڈی گاما (1524 - 1469) ایک پرتگالی ملاح تھا۔ اس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے 1497 میں ہندوستان اور یورپ کے درمیان سمندری راستہ دریافت کیا جو کیپ آف گڈ ہوپ ہو کر جاتا تھا۔ مگر یہ عظیم کامیابی اس کو ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کے ذریعہ حاصل ہوئی
اس کی بابت انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: Vasco da Gama's Arab pilot, Ahmad ibn Majid (7/862)
یعنی واسکوڈی گاما کا عرب جہاز راں احمد بن ماجد ۔ برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ واسکوڈی گاما جب پرتگال سے چل کر افریقہ پہنچا تو وہاںموزنبیق کے سلطان نے واسکوڈی گاما کو دو مسلم ملاح دیئے۔ ان میں سے ایک اس وقت بھاگ گیا جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ پرتگالی مسیحی مذہب کے ہیں :