The Sultan of Mozambique supplied da Gama two
Al-Risala, April 2019, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
(Muslim) pilots, one of whom deserted when he discovered that the Portuguese were Christians (7/861)
جس جہاز راں نے واسکوڈی گاما کا ساتھ دیا اس کا نام احمد بن ماجد تھا۔ وہ نہایت ماہر تھا اور سمندری جہاز سے اتنی واقفیت رکھتا تھا کہ اس پر اس نے ایک اہم کتاب لکھی تھی جو مذ کورہ سفر کے وقت اس کے ساتھ تھی۔
پروفیسر فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ بحری جہاز رانی کے موضوع پر ایک خصوصی کتاب احمد بن ماجد کی ہے جس میں بحری جہاز رانی کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1498 میں یہی احمد بن ماجد تھا جس نے افریقہ سے ہندوستان تک واسکوڈی گاما کی رہنمائی کی : And exceptional work of major importance is a compendium of theoretical and practical navigation by Ahmad ibn Majid of Najdi ancestry, who, it is claimed, in 1498 piloted Vasco da Gama from Africa to India. P. K. Hitti, History of the Arabs, 1979, p. 689. پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں جو دریافتیں ہوئیں ان میں سے ایک وہ دریافت ہے جس کو نئی دنیا (امریکہ) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم دریافت عام طور پر کرسٹوفر (کولمبس 1506-1451) کے نام سے موسوم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اٹلی کا کولمبس ہی وہ شخص ہے جس نے اس مہم کی رہنمائی کی۔ مگر اس کو یہ تصور دینے والے مسلمان تھے کہ وہ اٹلانٹک سمندر میں اپنی کشتی اس امید
میں داخل کرے کہ اس ناپیدا کنارسمنَدَر کے دوسری طرف اس کوخشکی ملے گی جہاں وہ اترسکے۔ پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ عربوں نے زمین کے گول ہونے کے قدیم نظریہ کو زندہ رکھا، جس کے بغیر نئی دنیا کی دریافت ممکن نہ ہوتی۔ اس نظریہ کا ایک مبلغ ابو عبیدہ مسلم البلنسنی تھا جس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا نصف اول ہے۔ گول ہونے کا نظریہ عربی سے لاطینی میں ترجمہ ہو کر 1410 میں یورپ میں شائع ہوا۔ اس کو پڑھ کر کولمبس نے اس نظریہ سے واقفیت حاصل کی۔ اس سے اُس نے سمجھا کہ زمین ایک ناشپاتی کی مانند ہے اور یہ کہ زمین کے مغربی نصف کرہ میں بھی ایسا ہی ابھار موجود ہے جیسا کہ اس کے مشرقی نصف کرہ میں نظر آتا ہے۔ پروفیسر ہٹی کے الفاظ یہ ہیں :
They kept alive the ancient doctrine that the earth was round. We have already referred to the Hindu idea that the known hemisphere of the world had a centre or "world cupola" situated at an equal distance from the four cardinal points. This arin theory found its way into a Latin work published in 1410. From this Columbus acquired the doctrine which made him believe that the earth was shaped in the form of a pear and that on the western hemisphere opposite the arin was a corresponding elevated centre. P. K. Hitti, History of the Arabs, The Macmillan Press Ltd., London, Tenth Edition 1979, p. 570. ہمیں کیا کرنا ہے اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔ ماضی میں بلاشبہ مسلمانوں نے بہت بڑی بڑی سائنسی خدمات انجام دی تھیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمان سائنس اور صنعت کے میدان میں تمام قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ آج وہ اس حیثیت میں نہیں ہیں کہ خالص سائنسی اور صنعتی اعتبار سے اہل دنیا کے لیے نفع بخش بن سکیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک صنعتی دور (industrial Age) میں بھی داخل نہیں ہوئے۔ جب کہ بقیہ دنیا الوین ٹافلر کے الفاظ میں، مافوق
صنعتی دور (super-industrial Age) میں داخل ہوگئی ہے۔ Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971 مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہو جائیں، وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدا نے انسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹج ہمیشہ موجود ہے۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یعنی پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے، جو اس مسئلے کا حل اسے دے سکے۔ یہ صرف مسلمان ہیں جو محفوظ آسمانی کتاب کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہیں کہ سائنسی طبقہ کو نیز پوری انسانیت کو اس مسئلہ کے حل کا تحفہ پیش کر سکیں۔
اس معاملہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہاں میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کا ایک پیرا گراف نقل کروں گا۔ اس کے تاریخ سائنس (History of Science) کے مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :
Until recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and superstition and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within science of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple faith. (16/366)
ابھی حال تک سائنس کی تاریخ کامیابیوں کی کہانی تھی۔ سائنس کی فتوحات میں یہ شمار ہوتا تھا کہ اس نے انسانی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور جہالت اور توہم پرستی پر فتح حاصل کی ہے۔ سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا ہے جس نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ مگر حال میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے۔ بے قید ٹکنالوجی کے خطرات کی وجہ سے اس کی ترقی پر روک لگانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ صورت حال مؤرخین کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ان خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں جو ابتدا میں سادہ طور پر قائم کر لیے گئے تھے۔ جدید دنیا کا یہی وہ خلا ہے جہاں مسلمان اپنے نفع بخش ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں، اور اس طرح دوبارہ اپنے لیے سرفرازی کا وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں نے دنیا میں کھو دیا ہے۔ سائنس کی ابتدائی فتوحات نے بہت سے لوگوں کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں سائنس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہماری تمام ضرورتوں کے لیے کافی اس سلسلہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ جولین ہکسلے (1975– 1887) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے: Man Stands Alone اس کے جواب میں کریسی ماریسن (1946– 1884) نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام با معنی طور پر یہ تھا انسان تنہا کھڑا نہیں ہو سکتا: