Al-Risala · April 2019

Man Does Not Stand Alone

Al-Risala, April 2019, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

بیسویں صدی کے نصف اول تک انسان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کی سائنس اس کے لیے کافی مگر اسی صدی کے نصف ثانی میں انسان کو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا۔ اس سے پہلے جو بات کریسی ماریسن جیسے چند مستثنی افراد کہتے تھے، اب وہ عام طور پر لوگوں کی زبانوں سے کہی جارہی یہی وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا کے مذکورہ اقتباس میں کیا گیا ہے۔ جدید انسان کی ذہنی حالت کیا ہے، اس کا ایک نمونہ لارڈ برٹرینڈ رسل (1970– 1872)

وہ انگلینڈ کے ایک دولت مند خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی۔ نوبل انعام ملا جو آج کی دنیا میں سب سے بڑا علمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس نے مذہب کو چھوڑ دیا اور مادی سائنس میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مگر بھر پور عمر گزارنے کے باوجود اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کو سکون کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کی طویل خود نوشت سوانح عمری کے آخر میں ہم اس کے ہاتھ سے یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں:

The inner failure has made my mental life a perpetual battle (p. 727) اندرونی ناکامی نے میری ذہنی زندگی کو ایک مستقل جنگ میں مبتلا رکھا۔

Printed page