Al-Risala · April 2019

گلیلیو اور سائنس

Al-Risala, April 2019, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ سائنس کی تاریخ کی کسی کتاب میں گلیلیو (1642- 1562) کا باب کھول کر دیکھیں تو وہاں آپ کو اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے کہ گلیلیو نے مشاہدہ اور تجربہ اور ریاضی کو جس طرح استعمال کیا اس نے جدید سائنس کی بنیاد رکھنے میں مدد دی:

His use of observation, experiment and mathematics helped lay foundation of modern science. گلیلیو کا خاص کارنامہ کیا ہے۔ گلیلیو کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ اس نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد (Dimension) اور وزن (Weight) پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان کو ثانوی صفات سے الگ کر دیا جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ ایک لفظ میں یہ کہ اس نے کمیت کو کیفیت سے جدا کر دیا۔ گلیلیو کے اس فعل نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آدمی میٹر کو استعمال کر سکے، بغیر اس کے کہ اس نے میٹر کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کی ہوں۔ اس طرح فطرت کو کام میں لانے کا دروازہ کھل گیا۔ ٹکنالوجی کو ترقی ہوئی اور بے شمار نئی نئی چیزیں بننے لگیں جو انسان کے لیے مفید ثابت مگر زیادہ مدت نہیں گزری کہ انسان کا عدم اطمینان ظاہر ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں سائنس داں یا انجینئر کا معاملہ اس جاہل بڑھئی سے کچھ بھی مختلف نہیں جو لکڑی کو کاٹ کر فرنیچر بناتا

ہے، اگرچہ وہ لکڑی کی کیمسٹری کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ گلیلیو نے چیزوں کے جس ظاہری پہلو کو الگ کر کے اس کو سائنس کے مطالعہ کا موضوع بنایا تھا، اس کے بارہ میں بھی انسان کی معلومات حد درجہ ناقص ہیں۔ انسان نہ صرف پھول کی ’’خوشبو‘‘ سے بے خبر ہے بلکہ پھول کی ’’کیمسٹری‘‘ بھی بہت کم اس کے علم میں ایک چیز جس کو متمدن دنیا کا انسان تین سو سال تک علم سمجھتا رہا وہ بھی آخر کار بے علمی ثابت برٹرینڈ رسل نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے : As is natural when one is trying to ignore a profound cause of unhappiness, I found impersonal reasons for gloom. I had been very full of personal misery in the early years of the century, but at that time I had a more or less Platonic philosophy which enabled me to see beauty in the extra-human universe. Mathematics and the stars consoled me when the human world seemed empty of comfort. But changes in my philosophy have robbed me of such consolations. Solipsism oppressed me, particularly after studying such interpretations of physics as that of Eddington. It seemed that what we had thought of as laws of nature were only linguistic conventions, and that physics was not really concerned with an external world. I do not mean that I quite believed this, but that it became a haunting nightmare, increasingly invading my imagination. (Bertrand Russell, Autobiography, Unwin Paperbacks, London, 1978, pp. 392-93 )

میں نے اپنی اداسی کے کچھ غیر شخصی اسباب پالیے جیسا کہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی ناخوشی کے ایک گہرے سبب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میں موجودہ صدی کے ابتدائی سالوں میں ذاتی پریشانیوں میں بہت زیادہ مبتلا رہا ہوں۔ مگر اس وقت میں کم و بیش افلاطونی فلسفہ کا قائل تھا جس نے مجھے اس قابل بنائے رکھا کہ میں خارجی دنیا میں حسن کو دیکھ سکوں۔ اور ستاروں نے مجھے اس وقت تسکین دی جب کہ انسانی دنیا آسائش سے خالی نظر آتی تھی۔ مگر میرے فلسفہ

میں تبدیلی نے اس قسم کی تسکین کو مجھ سے چھین لیا۔ خودی نے مجھ کو بالکل مضمحل کر دیا۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ میں نے طبیعیات کی ان تشریحوں کو پڑھا جو ایڈنگٹن جیسے لوگوں نے کی ہیں۔ مجھ کو نظر آیا کہ جس چیز کو ہم نے فطرت کے قوانین سمجھا تھا وہ محض الفاظ کا معاملہ تھا۔ اور طبیعیات حقیقتاً کسی خارجی دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ میں اس کو پوری طرح مانتا ہوں۔ مگر یہ میرے لیے ایک کابوس بن گیا جو میرا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ میرے تخیلات پر برابر حملہ کر رہا تھا۔ جو سائنس خارجی دنیا کا علم دینے سے عاجز تھی وہ اس باطنی دنیا کا علم کیا دیتی جس کے بارے میں اس نے گلیلیو ہی کے زمانہ میں عملی طور پر اپنی نارسائی کا اعلان کر دیا تھا۔ سائنس آدمی کو وہ جھوٹا اطمینان بھی نہ دے سکی جو مادی سطح پر بظاہر ایک انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اور ذہنی اور روحانی سطح کا اطمینان تو نہ اس کے بس میں تھا اور نہ کبھی اس نے اس کو دینے کا دعویٰ کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔ یہی بات بائبل میں ان الفاظ میں آئی ہے— انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا، بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے منہ سے نکلتی ہے، وہ جیتا رہتا ہے: Man does not live by bread alone but by every word that comes from the mouth of the Lord. (Deuteronomy 8:3)

حضرت مسیح نے اسی بات کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے— آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے:

Man shall not live by bread alone, but by every word that comes from the mouth of God. (Matthew 4:4)

انسان اپنے ساتھ ایک مخصوص نفسیات رکھتا ہے۔ اس نفسیات سے وہ اپنے آپ کو جدا نہیں یہ نفسیات ایک برتر تسکین کی طالب ہے۔ انسان کو مادی ساز وسامان کے ساتھ ایک عقیدہ اور ایک اصول حیات بھی درکار ہے۔ سائنس نے انسان کو جو کچھ دیا وہ اپنی آخری صورت میں بھی

صرف مادی ساز و سامان تھا۔ سائنس انسان کو ایک قابلِ اعتماد عقیدہ نہ دے سکی۔ یہی وہ کمی ہے، جس نے جدید دنیا کے بے شمار لوگوں کو غیر مطمئن کر رکھا ہے۔ باہر سے دیکھنے والوں کو ان کی زندگیاں پر رونق نظر آتی ہیں۔ مگر اندر سے ان کی روح بالکل ویران ہو چکی ہے۔

Printed page