اقدار کا مسئلہ
Al-Risala, April 2019, pp. 44–46
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مسئلہ جس سے آج کا انسان دوچار ہے، فلسفیانہ لفظ میں اس کو اقدار کا مسئلہ (problem of values) کہا جاسکتا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ انسان ایک دہری مشکل سے دوچار ہے۔ ہے مگر نہیں جانتا۔ معلومات کے ڈھیر کے درمیان وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کم سے کم اس پوزیشن میں ہوتا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ وہ کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو بُرا سمجھے۔ وہ اس تمیز کو کسی بھی طرح اپنے آپ سے جدا نہیں کر سکتا۔ مگر جب اپنی عقل یا اپنے علم کے ذریعہ وہ اس کو متعین کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کو متعین نہیں کر پاتا۔ جوزف وڈ کرچ نے اپنی کتاب ”دورِ جدید کا مزاج‘‘ میں اس مسئلہ پر عقلی بحث کی ہے۔ کا کہنا ہے کہ انسان اگرچہ باعتبارِ فطرت یہ یقین کرنے کی طرف مائل ہے کہ زندگی کا ایک مقصد ہے اور اچھائی اور برائی کا ایک معیار ہے۔ مگر سائنس اس کا کوئی حتمی جواب نہیں دیتی۔ سائنس کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کرتی جاری ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی موضوعی مقام (objective status) نہیں رکھتیں۔ انسان اخلاقی معیاروں کی ضرورت محسوس کرتا ہے جس کے مطابق وہ زندگی گزارے۔ وہ وجدانی طور پر اس کی مستقل تلاش میں ہے۔ مگر سائنس کی دریافت کردہ دنیا میں خیر و شر کے تصورات کی کوئی جگہ نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک اخلاقی جانور ہے جو ایک ایسی کائنات میں ہے جہاں اخلاقی عنصر کا کوئی وجود نہیں: Man is an ethical animal in a universe which contains no ethical element. (Joseph Wood Krutch, The Modern Temper, New York, 1929, p. 16)
انسان چیزوں کی حقیقت کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف چیزوں کے ڈھانچہ کا علم
انسان دنیا کے آغاز وانجام کو جاننا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف درمیانی مرحلہ کے بارہ میں کچھ باتیں بتاتی ہے۔ انسان چیزوں کی معنویت کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف اس کی ظاہری ہیئت کا پتہ دیتی ہے۔ انسان پھول کی مہک کو سمجھنا چاہتا ہے مگر سائنس اس کو صرف پھول کی کیمسٹری سے آگاہ کرتی ہے۔ انسان ذہن اور روح کی گہرائی میں اترنا چاہتا ہے مگر سائنس صرف جسم کے مادی اجزا کا تجزیہ اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسان ”خالق“ کے بارہ میں جاننا چاہتا ہے اور سائنس اس کو صرف ”مخلوق“ کے بارہ میں بتا کر خاموش ہو جاتی ہے۔ یہی بات ہے جس کو ایک مغربی مفکر نے حسرت کے ساتھ اس فقرہ میں بیان کیا ہے جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے، اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں :
The important is unknowable, and the knowable is unimportant. اعلیٰ ذریعہ علم یہی بے اطمینانی جدید دور کے تمام باشعور انسانوں کا پیچھا کیے ہوئے ہے۔ ان کی اکثریت اگرچہ مذہب کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، مگر انھوں نے یہ بات مان لی ہے کہ جس سائنسی ترقی کو انھوں نے انسانیت کے مسئلہ کا حل سمجھ لیا تھا، وہ انسانیت کے مسئلہ کا حل نہ تھا۔ برٹرینڈ رسل نے مغربی فکر و فلسفہ پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے آخر میں ہم اس کے اعتراف کے حسب ذیل کلمات پاتے ہیں:
(Western philosophers) confess frankly that the human intellect is unable to find conclusive answers to many questions of profound importance to mankind, but they refuse to believe that there is some 'higher' way of knowledge, by which we can discover truths hidden from science and the intellect. (Bertrand Russell, A History of Western Philosophy, 1979, p. 789)
مغربی فلسفی کھلے طور پر اقرار کرتے ہیں کہ انسانی عقل کے بس سے باہر ہے کہ وہ ان بہت سے سوالات کا قطعی جواب پا سکے جو انسانیت کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ اس کو ماننے
سے انکار کرتے ہیں کہ سائنس کے علاوہ علم کا کوئی اور بلند طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم ان سچائیوں کو دریافت کر سکیں جو سائنس اور عقل کی دسترس میں نہیں آتیں۔
آج کے انسان کو یہی بتانا اس کو سب سے بڑی چیز دینا ہے کہ ہاں، یہاں ایک بلند طریقہ موجود ہے جس کے ذریعہ نا معلوم کو معلوم کیا جاسکے۔ اور وہ الہام خداوندی ہے۔ اور یہ الہام خداوندی جہاں اپنی محفوظ شکل میں موجود ہے وہ قرآن ہے۔
قرآن پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے اور تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل اپنی صداقت کو ثابت کر رہا ہے، اس موضوع پر راقم الحروف نے اپنی کتاب "عظمت قرآن" اور دوسری کتابوں میں گفتگو کی ہے۔ اس کی تفصیل ان کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔