Al-Risala · April 2019

داخلی شہادت

Al-Risala, April 2019, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاقی یا مذہبی احساس انسان کے اندر بے حد طاقت ور ہے۔ ماضی سے لے کر حال تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ احساس کسی طرح انسان کے اندر سے ختم نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ یہ خالص انسانی کسی بھی نوع کے جانور میں اب تک اخلاقی یا مذہبی شعور کا ہونا ثابت نہ کیا جاسکا۔ الفرد رسل ویلس (1913-1823) مشہور ارتقا پسند عالم ہے۔ تاہم وہ ڈارون کی طرح اس کا قائل نہ تھا کہ ذہن انسانی کی اعلیٰ اور نادر خصوصیات محض انتخاب طبیعی (natural selection) کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔

اسی طرح اس نے لکھا ہے کہ افادیت کا مفروضہ جو کہ دراصل ذہن پر انتخاب طبیعی کے نظریہ کا انطباق ہے، وہ انسان کے اندر اخلاقی شعور کی پیدائش کی تشریح کے لیے ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ اخلاقی شعور کو اس دنیا میں بے حد مشکلات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ طرح طرح کے استثنائی حالات پیش آتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اخلاقی شعور کے تحت عمل کرنے والا موت سے دوچار ہوتا ہے یا برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہم کیوں کر یقین کر سکتے ہیں کہ افادیت کا لحاظ ایک شخص کے اندر ایک اعلیٰ نیکی کے لیے اتنا پر اسرار تقدس پیدا کر سکتا ہے۔ کیا افادیت کا لحاظ ایک شخص کے اندر ایک اعلیٰ

نیکی کے لیے اتنا پُر اسرار تقدس پیدا کر سکتا ہے۔ کیا افادیت آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کر سکتی ہے کہ وہ سچائی کو بذات خود مقصود و مطلوب سمجھے اور نتائج کا لحاظ کیے بغیر اس پر عمل کرے : The Utilitarian hypothesis, which is the theory of natural selection applied to mind, seems inadequate to account for the development of the moral sense. Such being the difficulties with which virtue (or the moral sense) has had to struggle, with so many exceptions in its practice, with so many instances in which it brought ruin or death to its too ardent devotee, how can we believe that considerations of utility could ever invest it with the mysterious sanctity of the highest virtue-could ever induce men to value truth for its own sake, and practice it regardless of consequences. ذہن کائنات“ نامی کتاب کا مصنف فریڈ ہائل اپنے قیمتی مطالعہ کا خاتمہ ان الفاظ پر کرتا ہے” کہ اگر زمین کو کسی مزید اہمیت کا حامل بننا ہے، اور انسان کو کائناتی اسکیم میں کوئی جگہ پانی ہے تو ضرورت ہوگی کہ ہم افادیت کے نظریہ کو مکمل طور پر ترک کردیں ۔ اگر چہ میرا خیال ہے کہ قدیم طرز کے مذہبی نظریات کی طرف واپسی کچھ مفید نہ ہوگی، مگر ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ویلس کی تشریح کے مطابق، پُر اسرار تقدس ہمارے اندر موجود رہتا ہے اور فردوسی دنیا کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کیا ہم اس کی پیروی کریں گے :

If the Earth is to emerge as a place of added consequence, with man of some relevance in the cosmic scheme, we shall need to dispense entirely with the philosophy of opportunism. While it would be no advantage I believe to return to older religious concepts, we shall need to understand why it is that the mysterious sanctity described by Wallace persists within us, beckoning us to the Elysian fields, if only we will follow. (Fred Hoyle, The Intelligent Universe, Michael Joseph, London, 1983, p. 251)

حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ مذہب کے بغیر نہیں رہ آج کا انسان بھی اتنا ہی زیادہ مذہب کا ضرورت مند ہے جتنا قدیم زمانہ کا انسان تھا۔ مزید یہ کہ

سائنس کی طرف سے مایوسی نے اس کو مزید شدت کے ساتھ مذہب کا مشتاق بنا دیا ہے۔ انسان کی مشکل یہ ہے کہ وہ مذہب کے نام سے جس چیز کو جانتا ہے، وہ صرف بگڑے ہوئے مذاہب ہیں، اور بگڑے ہوئے مذاہب کے ساتھ انسانی فطرت کو مطابقت نہیں۔ جدید انسان جب اندرونی تقاضے سے مجبور ہو کر مذہب کے بارے میں سوچتا ہے تو اسی بگڑے ہوئے مذہب کی تصویر اس کے سامنے آجاتی ہے۔ وہ مذہب سے قریب ہو کر دوبارہ مذہب سے دور ہو جاتا ہے۔

اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ وہ ان خرابیوں سے یکسر پاک ہے جو انسانی ملاوٹ کے نتیجہ میں دوسرے مذہبوں میں پیدا ہوگئی ہیں۔ انسان کی فطرت جس مذہب کو تلاش کر رہی ہے وہ حقیقتاً اسلام ہی ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اسلام کو اپنے خود ساختہ جھگڑوں کا عنوان بنائے ہوئے انھوں نے اسلام کو دنیا کے سامنے پیش ہی نہیں کیا، اور اگر پیش کیا تو بگڑی ہوئی خود ساختہ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو اسلام اور دوسرے مذہبوں میں بظاہر کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اسلام کو اگر اس کی اصل صورت میں آج کے انسان کے سامنے پیش کر دیا جائے تو وہ یقیناً اس کو اپنی طلب کا جواب پائے گا اور اس کی طرف دوڑ پڑے گا۔

مسلمان سائنس کے میدان میں دوسروں سے پچھڑ گئے ہیں مگر عقیدہ (نظریہ حیات) کے معاملہ میں وہ آج بھی دوسروں سے آگے ہیں۔ وہ جدید دنیا کو وہ چیز دے سکتے ہیں جس کی آج اسے سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یعنی خدا کی طرف سے آیا ہوا سچا دین، وہ دین جس کے اوپر آدمی اپنے لیے ایک پر اعتماد زندگی کی تعمیر کر سکے۔ یہ مقام آج مسلمانوں کے لیے خالی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وہ اہل عالم کے لیے نفع بخش بن سکتے ہیں، اور دوبارہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر سکتے ہیں کہ قدرت کا یہ قانون ان کے حق میں پورا ہو— فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17) ۔ یعنی پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔

Printed page