انسان کے لیے سبق
Al-Risala, May 2019, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے : بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ، وَلَوْ أَلْقَى یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پر غور کر کے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کر سکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی انسان کو وہ صلاحیتیں بہت ہی چھوٹے پیمانے پر دی گئی ہیں، جو صفات بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ رب العالمین کی ہیں۔
انسان جب اس کائنات کو دیکھتا ہے، تو اس کو یہ نظر آتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔ سورج ہمیشہ ٹھیک اپنے وقت پر نکلتا ہے، و متعین وقت پر غروب ہو جاتا اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے انتظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے مطالعہ کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کر لے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کر دے گی: أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10)۔ اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ قرآن اور حدیث کی باتوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال سکے، تو اس کی دریافت اس کے لیے ری ڈسکوری بن جاتی ہے۔ وہ مذکور باتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں دریافت کرنے لگتا ہے۔ میں آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا (14:34)۔ آپ کے پاس اپنے مطالعے کے مطابق، یہ لفظ موجود ہو کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جو ہیومن فرینڈلی دنیا ہے۔ اس کا احساس شکر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔