Al-Risala · May 2019

اسمِ اعظم

Al-Risala, May 2019, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر (3857)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیوں کہ تو ہی اللہ ہے، اکیلا، ہر ایک کی ضرورتوں کو پوری کرنے والا، جس نے کسی کو پیدا نہیں کیا، اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا، اور اس کے برابر یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے اللہ کو اس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا ہے، جس کے ذریعے سے جب مانگا جائے تو وہ عطا کرے، اور جب دعا کی جائے تو قبول ہو۔ یہ کون سی دعا ہے۔ یہ دعا رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمّل زمین اور آسمان بھی نہ کر سکیں۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ’مانگنے والا‘ اور ’دینے والا‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا، محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی اُس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادرِ مطلق، عاجزِ مطلق کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔ یہ زبان وہ ہے، جس کو انگریزی کے حوالے سے لینگویج آف انڈراسٹیٹمنٹ (language of understatement) کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اردو کے انشاء پردازوں کی زبان لینگویج آف اوور اسٹیٹمنٹ (language of overstatement) کہی جاسکتی ہے۔ وہ لوگ جو اردو زبان میں پلے بڑھے ہوں، جن کا اسلوب اردو زبان کے ماحول میں بنا ہو، وہ لینگویج آف

انڈرسٹیٹمنٹ بولنے کے لیے نااہل ہوتے ہیں۔

لینگویج آف اووراسٹیٹمنٹ کا معاملہ سادہ معاملہ نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں جو مزاج بنتا ہے، وہ کبرخفی (hidden arrogance) کا مزاج کہا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس کے لیے نااہل ہو جاتے ہیں کہ وہ اسم اعظم کی زبان بولیں، اور اسم اعظم کے لب و لہجہ میں سوچیں۔ پروفیسر ہمایوں کبیر نے انڈیا ونس فریڈم (India Wins Freedom) کے مقدمے میں بجا طور پر لکھا ہے کہ انگریزی زبان بنیادی طور پر لینگویج آف انڈرسٹیٹمنٹ ہے:

English, on the other hand, is essentially a language of understatement. اس کے مقابلے میں اردو زبان لینگویج آف اوور اسٹیٹمنٹ ہے۔ جو لوگ اردو زبان کے ماحول میں رہتے ہوں، وہ اس فرق کو سمجھنے کے لیے تقریباً نااہل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً غالباً 1940 کی بات ہے، اس وقت میں ایک مدرسے میں پڑھتا تھا۔ یہ آزادی کی جدوجہد کا زمانہ تھا۔ ہمارے مدرسے کے ایک بڑے استاد نے ایک بار تقریر کرتے ہوئے کہا: انگریز ساری دنیا کا مکھن کھا گئے۔ جو لوگ اس طرح کی زبان کو لکھیں یا پڑھیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کبرخفی کا شکار بن جاتے ہیں۔ وہ باتوں کو ایز اٹ از (as it is) سمجھنے کے لیے نااہل ہو جاتے ہیں۔ اردو زبان کا یہ ایک عام مسئلہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ اردو ریڈر شپ میں عام طور پر حقیقت پسندی کا مزاج موجود نہیں ہوتا۔ اردو ریڈر شپ کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف ہائی پروفائل (high profile) کے اسلوب کو جانتی ہے، لو پروفائل (low profile) کے اسلوب کو وہ سرے سے جانتی ہی نہیں۔ حالاں کہ ہائی پروفائل لوگوں کے اندر جذباتی مزاج پیدا کرتا ہے، اور جذباتی مزاج کامیابی تک پہنچنے کے لیے مستقل رکاوٹ ہے۔

اس معاملے کا بہت گہرا تعلق دعا سے ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی جو لینگویج آف اوور اسٹیٹمنٹ سے مانوس ہو، وہ عجز کی نفسیات سے خالی ہو جائے گا، وہ عجز کی زبان میں دعا کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ ایسا آدمی ہائی پروفائل میں بولے گا، اور ہائی پروفائل میں سوچے گا، اور ہائی پروفائل اور عجز کا شعور دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔

Printed page