انسان کی تخلیق
Al-Risala, May 2019, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
علم فلکیات (astronomy) کے موضوع پر ہر زبان میں بڑی تعداد میں کتابیں موجود آپ فلکیات کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کائنات (universe) ناقابل قیاس حد تک بڑی کائنات ہے۔ وہ متحرک ستاروں اور سیاروں سے بھری ہوئی ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات نہایت عظیم ہونے کے باوجود ایک بے خطا کائنات (flawless کائنات ریاضیاتی صحت (mathematical precision) کے اصول پر کائنات کی اس حقیقت کا حوالہ خود قرآن میں ایک ناقابل انکار حقیقت کے طور پر کیا گیا ہے (الملک،4-3: 67)۔
اس کے بعد آپ انسانی دنیا کو دیکھیے، تو آپ کو دونوں دنیاؤں میں ایک عجیب فرق دکھائی انسانی دنیا برعکس طور پر مصائب (suffering) سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مصائب اتنے زیادہ عام ہیں کہ ہر عورت اور ہر مرد کو اپنی زندگی میں اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے، مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ غالباً 1972 کا ہے، جب کہ میں نے احمد آباد کا ایک سفر کیا احمد آباد کا سفر کے عنوان سے یہ واقعہ الجمعیۃ ویکلی میں شائع ہو چکا ہے۔ اس سفر کے دوران میری ملاقات ایک نو جوان انجینئر سے ہوئی۔ اس نے جلد ہی شہر احمد آباد میں ایک فیکٹری لگائی تھی۔ یہ فیکٹری بظاہر نہایت اعلی معیار پر قائم کی گئی تھی۔ نوجوان نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ہماری فیکٹری جدید معیار پر قائم کی گئی ہے۔ مگر ابھی تک ہمارے پاس کوئی کوالیفائڈ مینیجر نہیں۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس نے یہ جملہ کہا۔ لیمیٹیشننس (limitations) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر۔
اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے میری زبان پر یہ جملہ آگیا کہ کیا خدا نخواستہ خالق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، کیا خالق کی لیمیٹیشننس آجاتی ہیں انسان کی سائیڈ پر۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے
میری سمجھ میں آیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ خود قرآن کے مطابق، انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے احسن تقویم (التین، 4: کے ساتھ پیدا کیا۔ خالق کائنات نے انسان کے لیے اعلیٰ ترین انجام مقدر کیا ہے، یعنی ابدی جنتوں میں داخلے کا انعام۔
اس پہلو پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ انسان کے ساتھ جو پوری کائنات سے الگ معاملہ کیا گیا ہے، یعنی مصیبت (البقرۃ، 156: کا معاملہ۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے۔ انسان کی زندگی ایک سفر ہے، دنیا سے جنت کا سفر۔ یہ سفر انسان کے لیے ایک تربیتی سفر ہے۔ انسان کے لیے اس سفر کے دوران ایک تربیتی کورس مقدر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ وہ اس تربیتی کورس سے کامیاب ہو کر نکلے۔ تا کہ جب اس کا یہ تربیتی دور ختم ہو تو وہ اپنے آپ کو جنت کے گیٹ پر کھڑا ہوا پائے۔
انسان کے بارے میں خالق کے اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ اپنی زندگی کے اس پہلو پر مرکوز کر دے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تربیت یافتہ انسان بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ قرآن میں اس حقیقت کو بار بار بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تین آیتیں یہ ہیں: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ - مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (15-18: 50)۔ یعنی اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو جو اس کے دل میں آتی ہیں۔ اور ہم رگ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ جب دو لینے والے لیتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔ کوئی لفظ وہ نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگراں موجود ہے۔
جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت انسان کا فطری مسکن ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان کو ہر اعتبار سے کامل فل فل منٹ (fulfillment) ملے گا۔ جنت ہی وہ مقام ہے جس کو پانے کے لیے ہر مرد و عورت کو عمل کرنا چاہیے۔