Al-Risala · May 2019

In comparison that you understand

Al-Risala, May 2019, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

رب العالمین بیشمار چیزوں کو پیچ کر رہا ہے۔ لیکن کہیں بھی کوئی نقص نہیں ، آتا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقاً مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ - ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے ، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔ اس خدائی مینجمنٹ کے مقابلے میں انسانی کوششوں کو دیکھئے ۔ انسان جب ایسا کرتا ہے تو وہ بہت ساری چیزوں کو کھودیتا۔ اب انسان غور کرے گا تو اس کو یہ دریافت ہوگا کہ اس کا ئنات کا بہت بڑا حی و قیوم خدا ہے۔ خدا مشاهده (observation) میں نہیں آتا مگر خدا تجربہ کے اعتبار سے ضرور ایک معلوم حقیقت انسان کے اندر اگر حقیقت پسندانہ مزاج ہو تو بلا شبہ وہ خدا کے وجود کا اقرار کرے گا۔

Printed page