فطرت کا قانون
Al-Risala, May 2019, pp. 31–34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (7:188)۔ یعنی کہو، میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت فائدے اپنے لئے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر رہی ہے۔ لیکن وہ اپنے عمومی انطباق کے اعتبار سے ساری انسانی تاریخ پر محیط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں فائدہ اور نقصان کا تعلق بہت زیادہ مستقبل بینی سے ہے۔ اگر آدمی مستقبل کو جانے تو وہ بڑے سے بڑے فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن مستقبل کو نہ جاننے کی بنا پر انسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ معاملہ عام انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت پوری انسانی تاریخ کو بیان کر رہی ہے۔ یہاں ایک تقابل کے ذریعے بہت بڑی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات کی ایسی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا، جس میں اس کو نقصان نہ پیش آئے۔ کی ہر منصوبہ بندی میں کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے، اس لیے انسان کو بار بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کے برعکس، کائنات کا معاملہ ہے۔ کائنات اللّٰہ رب العالمین کی تخلیق ہے۔ کائنات میں ہر لمحہ بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مثلاً سورج روزانہ اپنے مقررہ وقت پر نکلتا ہے۔ حتیٰ کہ شمسی نظام کا ایسا المَنک (almanac) بنایا جاتا ہے، جو ہزاروں سال کی مدت تک ٹھیک ٹھیک نقشہ پیشگی طور پر بتا تا ہو۔ اس کے برعکس، انسان کسی بھی حال میں اس قسم کی بے عیب منصوبہ بندی (zero-defect
management) پر قادر نہیں۔ یہ تقابل اللہ رب العالمین کے وجود کا ایک بین ثبوت ہے۔ طرف انسان کا معاملہ ہے کہ وہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ پر قادر نہیں، دوسری طرف خالق کائنات نے زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا نظام مسلسل طور پر کائنات میں قائم کر رکھا ہے۔ تقابل کا اصول (تعرف الاشیاء باضدادها) کو اپلائی کیجیے تو اس سے آپ کی معرفت رب میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ زیرو ڈیفیکٹ کا کائنات سیکینڈ ورلڈ وار (1945-1939) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بہت سے آرٹیکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔ کئی ملکوں، مثلاً امریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پر عمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ کے طور پر حسب ذیل آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں :
The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)
دور جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی اور کتابیں لکھی بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دور جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دور جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش، وغیرہ، انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کر سکتے ہیں۔
ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر نا کام ہو چکا
ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر موجود ہے۔ آپ یہ جاننا چاہیں کہ 15 اپریل 2025 کو سورج کب طلوع ہوگا، اور کب غروب ہوگا تو پیشگی طور پر آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ 15 اپریل کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا: طلوع آفتاب (Sun rise) 05:56 غروب آفتاب (Sun set) 18:46 سورج کے طلوع و غروب کے بارے میں یہ وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیا کا نظام کامل صحت کے ساتھ چل مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرا نومى، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکارڈ ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنی فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا، وہاں انتہائی کوشش کے باوجو د زیر و ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیوائن مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈیفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے :
Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book "Absolutes of Quality Management" has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some
arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that “zero defects” in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state where waste is eliminated and defects are reduced. It means ensuring the highest quality standards in projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project.(www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)
اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپنے ضد سے سمجھ میں آتی ہیں (تعرف الاشياء باضدادها):