Al-Risala · May 2019

مومن کون

Al-Risala, May 2019, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے: ﴿وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ﴾ (9:18) ۔ یعنی مومن وہ ہے جس کی معرفت اس کو بہت زیادہ اللہ سے ڈرنے والا بنا دے۔ مومن آخری حد تک ایک حساس انسان (sensitive person) ہوتا ہے۔ مومن کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو اس سے روکتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو سنجیدہ (sincere) انسان کا کام نہ ہو۔ جو اصول پسندی کے معیار پر پورا

مومن اگر کوئی وعدہ کرلے تو اس کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے وعدہ کو پورا مومن کی وجہ سے اگر کسی کا کچھ خرچ ہوا ہے تو مومن کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک اس خرچ کی تلافی نہ ہوجائے۔ مومن کی زبان سے اگر کوئی غلط بات نکل جائے تو اس وقت تک اس کو نیند نہیں آتی جب تک وہ اپنی غلطی کا کھلا اعلان نہ کردے۔ مومن اگر انسانوں کی رعایت سے کوئی بے حقیقت بات کہہ دے تو اس وقت تک وہ تڑپتا رہتا ہے، جب تک وہ اس سے رجوع کر کے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے مبرر (justified) نہ بنالے۔

مومن کی تعریف قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ (8:2)۔ والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ مومن کون ہے ۔ مومن وہ ہے جس کو اللہ رب العالمین کی معرفت ڈسکوری کے درجہ میں جو اس طرح اللہ کو ماننے والا بن جائے، جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ شخصیت پورے معنوں میں خدا رخی شخصیت (God-oriented personality) بن جائے، جو ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (83:6)۔

Printed page