Al-Risala · May 2019

مسخر کائنات

Al-Risala, May 2019, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں دو درجن سے زیادہ آیتیں ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔ مسخر کرنے کا مطلب ہے تابع کر دینا، یا سبجکٹ (subject) بنا زمین و آسمان کا مطلب ہے کائنات۔ کائنات کو انسان کے لیے مسخر کر دینا، انسان کے اوپر خالق کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی تسخیر کی وجہ سے پوری کائنات کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) بنی ہوئی ہے۔

اس تسخیر کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جس کو فوق الفطری سطح پر تابع بنانا کہا یعنی انسان کی مرضی کے بغیر اپنے آپ کائنات کے تمام اجزاء کا انسان کی خدمت میں لگا اس کائنات میں کوئی چیز انسان کی دشمن نہیں، کائنات کی ہر چیز انسان کے موافق بنی ہوئی انسان کی مرضی کے بغیر ہر چیز انسان کی خدمت کر رہی ہے۔

تسخیر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو معلوم فطری قوانین کا تابع بنا دیا ہے۔ طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ مثلاً بجلی کے قانون کو دریافت کر کے بجلی کو اپنے لیے مفید بنانا۔ ہوائی جہاز کے قانون کو دریافت کر کے ہوائی جہاز کو اپنی سواری کے لیے استعمال کرنا، وغیرہ۔ کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ کائنات کی عظمت خالق کی عظمت کا ایک انسان کو اگر اس عظمت کی معرفت ہو جائے، تو وہ کامل معنوں میں سبمیشن (submission) کی زندگی اختیار کرلے گا۔ انسان کے لیے ناممکن ہو جائے گا کہ وہ زمین پر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے۔ انسان فساد کا طریقہ چھوڑ کر کامل معنوں میں اطاعت الہی کی زندگی اختیار اسی زندگی کا شرعی نام تقویٰ کی زندگی ہے۔ ایسے ہی متقیوں کے لیے آخرت میں ابدی جنت کی خوشخبری ہے۔

Printed page