زندہ شخصیت
Al-Risala, May 2019, pp. 50–51
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بزرگ کا قول ہے: من عاش للہ لایموت ابدا۔ یعنی جس نے اللہ کے لیے زندگی گزاری، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ قول ایک عارف انسان کا قول ہے۔ اس قول کے پہلے حصے میں عیش کا لفظ حقیقی معنی میں آیا ہے۔ اس کے دوسرے حصے میں موت کا لفظ تمثیل کے معنی میں استعمال ہوا یعنی جو انسان اللہ کی یاد میں جینے لگے، اس کو ایک ابدی رزق مل جاتا ہے۔ اس کو ہمیشہ کے لیے ایک زندہ شخصیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا دل و دماغ کبھی جمود (stagnation) کا شکار اس کے دن بھی زندہ دن ہوتے ہیں، اور اس کی راتیں بھی زندہ راتیں۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ کی یاد میں نہ جِیے، وہ گویا ایک مردہ انسان ہے، وہ زندگی کی حقیقی نعمت سے آشنا نہیں۔ زندگی اور موت کے معاملے میں انسان کے لیے صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ وہ خالق کے فیصلے پر راضی ہو جائے۔ خالق کے فیصلے پر راضی نہ ہونا، ایک ایسے آپشن کی طرف بھاگنا ہے، جو کسی کے لیے قابلِ حصول ہی نہیں۔ اس معاملے میں خالق کے فیصلے پر راضی ہونا کیا ہے، اور خالق کے فیصلے کے خلاف بھاگنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا منصوبہ خالق کے نقشے کے مطابق وہ خالق کے نقشے پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس، اگر انسان خود اپنے بنائے ہوئے نقشے پر چلنا چاہے، تو وہ ناممکن کی طرف دوڑنے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں حقیقت پسند بنے، وہ ہرگز حقیقت کے خلاف چلنے کی کوشش نہ کرے۔
اس دنیا کا جو خالق ہے، وہی اس کا مالک بھی ہے۔ دنیا پر سارا اختیار خالق کا ہے۔ میں کامیابی اس کے لیے ہے، جو خالق کے فیصلے پر راضی ہو جائے، جو انسان خالق کے فیصلے کو چھوڑ کر اپنے راستے پر چلنا چاہے، اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خالق کے فیصلے پر راضی ہونے کا مطلب ہے— آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) گزارنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی مرضی کی طرف دوڑے، مگر ایسی دوڑ انسان کو کہیں پہنچانے والی نہیں۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر مولانا وحید الدین خاں کے قلم سے مولانا وحید الدین خاں اسلامی فکری اور علمی اور بنیادی مطالعہ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں قرآنی آیات کا مطالعہ سائنس کی روشنی میں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مذہب اور چیلنج مولانا وحید الدین خاں سیرتِ رسول کا علمی اور تاریخی مطالعہ مولانا وحید الدین خاں اسلام ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب میں بیان کیا جائے، تاکہ بدلے ہوئے حالات میں لوگ اسلام کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف موضوعات پر تیار کردہ ان کتابوں کا مطالعہ کریں، نیز قرآن کے ترجمے اور دعوتی لٹریچر برادرانِ وطن تک پہنچاکر اپنا دعوتی رول ادا کریں۔ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں خدا کے کمالات کی کوئی حد نہیں اسی طرح مومن کے سفر معرفت کی کوئی حد نہیں وہ کسی حد پر رک کے بغیر ابدی طور پر مسلسل جاری رہتا ہے