قرآن کا مہینہ
Al-Risala, June 2019, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن رمضان کے مہینہ میں اترا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ یعنی رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے، اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ تو وسیعی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں اہل ایمان کو سب سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ مطالعہ قرآن کے مقصد کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت قرآن میں تدبر سے مراد قرآن پر عقلی غور وفکر ہے، اور عقلی غور وفکر کا مقصد یہ ہے کہ قرآن میں ذاتی نصیحت کے پہلوؤں کو دریافت کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں تدبر قرآن کا خاص مقصد ہے، یعنی قرآن کو ذاتی انطباق (self-application) کی نسبت سے دریافت کرنا۔ مثال کے طور پر آپ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے قرآن کی اس آیت تک پہنچتے ہیں: إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اللہ خود اس کی مدد کر چکا ہے جب کہ منکروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں اس واقعہ کا ذکر ہے جو کہ ہجرت کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعے کو اپنے ذہن میں رکھ کر جب آپ اس آیت پر غور کریں گے تو آپ سوچیں گے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز تک وسیع ہے (وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) الاعراف، 7:156۔
لیے ضروری ہے کہ اللہ کی جورحمت ہجرت کے زمانے میں غارثور کی تنہائی میں پیش آئی، ضروری ہے کہ وہ پیغمبر کے ساتھیوں کے لیے بھی مقدر ہو۔
آپ اگر اپنے ذہن کی تربیت اس انداز سے کریں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں چلتے ہوئے کبھی آپ پر یہ وقت گزرے کہ جہاں آپ ہوں اور آپ کا ایک ساتھی ہو، اور پھر آپ کو یہ یاد آئے کہ اہل ایمان کے لیے قرآن میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کے اوپر اللہ کے فرشتے اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے مددگار ہیں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ، نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (31-41)۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم دنیا کی زندگی میں تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔
ان باتوں کو سوچتے ہوئے عین ممکن ہے کہ آپ اپنے ساتھی سے کہہ اٹھیں کہ اندیشہ مت کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اور وہ واقعہ یاد کریں جو کہ غارثور میں پیش آیا تھا۔ غارثور کا یہ واقعہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ اس موقع پر رسول اللہ نے جو کہا، وہ یہ تھا: یَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381)۔ یعنی اے ابوبکر، تمھارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ ایسے موقعہ پر آپ پر سکینہ نازل ہو اور اپنے ساتھی سے آپ یہ کہہ اٹھیں: یا صاحبی، ما ظنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ یعنی اے میرے ساتھی، تمھارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے، فرشتہ جن کا تیسرا ہے۔