پوسٹ رمضان پلاننگ
Al-Risala, June 2019, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
رمضان کا بہت زیادہ تعلق قرآن سے ہے__ قرآن رمضان کے مہینہ میں اتارا گیا، رمضان کے مہینے میں روزہ کے علاوہ سب سے زیادہ زور قرآن کے مطالعے پر دیا گیا ہے، اعتکاف کا خاص مقصد یہی ہے کہ یکسو ہو کر قرآن کو پڑھا جائے، تراویح کا مقصد یہ ہے کہ اس مہینہ میں پورا قرآن آدمی کی نظر سے گزر جائے۔ تراویح گویا رمضان کے مہینہ میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ ہے۔ رمضان کو اگر شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) کہا جائے تو یہ درست ہوگا۔
اس کا مقصد کیا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان رمضان کے مہینہ میں کامل یکسوئی کے ساتھ قرآن پڑھیں۔ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں۔ وہ یہ دریافت کریں کہ قرآن اس سے کس عمل کا تقاضا کرتا ہے۔
اس اعتبار سے اہل ایمان اگر قرآن کا گہرا مطالعہ کریں تو قرآن کی ایک آیت ان کے لیے بہت زیادہ توجہ کا سبب بن جائے گی۔ وہ آیت یہ ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے نزول کا مقصد شارع کے منصوبہ کے مطابق یہ تھا کہ قرآن دنیا کی تمام قوموں تک پہنچے۔ قرآن کی اس عمومی اشاعت کا کام کون کرے گا، اور کون قرآن کو ہر دور میں نسل در نسل انسانوں تک پہنچائے گا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، یعنی اہل ایمان یا امت اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر دور کے انسانوں تک قرآن کو پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کام لوگوں کی اپنی قابل فہم زبان میں کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر لوگوں تک قرآن کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا نہیں ہوسکتی۔ موجودہ زمانے میں جدید کمیونی کیشن نے اس کام کو پوری طرح قابل عمل بنا دیا ہے۔ یہی اہل ایمان کی پوسٹ رمضان پلاننگ ہے۔