Al-Risala · June 2019

وحید الدین، نئی دہلی

Al-Risala, June 2019, pp. 13–16

By Maulana Wahiduddin Khan

سوئٹزرلینڈ کے سفر میں 26 جولائی 2001 کی صبح کو ناشتہ پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ نے کہا کہ قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہاد کبیر کے لیے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ فہمیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے:

Do great jihad with the great power of the Quran. اس سے مزید یہ نکلتا ہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے:

Ideological power is greater than political power. 27 جولائی 2001 کی شام کو کھانے کی میز پر ایک عیسائی پادری سے ملاقات ہوئی۔ نام رائے من پانیکر(Raimon (Raimon Panikkar) تھا۔ ان کی عمر 83 سال ہو چکی ہے۔ وہ اسپین میں بارسلونا کے پاس ٹیورٹٹ (Tavertet) کے مقام پر رہتے ہیں۔ وہ صوفی اسلام سے متاثر ہیں۔ سے میں نے پوچھا کہ اسپین میں اسلام کے بارے میں کس قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ کہا کہ کچھ لوگ غلط نہی کا شکار ہیں۔ میں نے کہا کہ کس قسم کی غلط فہمی انہوں نے کہا کہ میڈیا میں پر تشدد جہاد کی جو خبریں آتی ہیں، ان کو وہ پسند نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریک ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کے باوجود اسپین میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔

اسلامی کتابوں کے ترجمے اسپینی زبان میں شائع کیے جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ جو لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ان کو اسلام کا کون سا پہلو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا اندازہ ہے اسلام کی سادگی (simplicity) لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ اسلام کی طرف مائل کر رہی ہے۔ اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ یعنی ایک خدا کا تصور۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ مسیحی عقیدہ تثلیث پر قائم ہے۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق ، تثلیث (trinity) کا مطلب یہ فہمیں کہ خدا تین بلکہ اس کا مطلب تین میں ایک اور ایک میں تین (three in one, one in three) یہ غیر ریاضیاتی عقیدہ اتنا پیچیدہ اور اس قدر ناقابل فہم ہے کہ مسیحی علماء بھی اس کی تشریح کرنے سے عاجز ہیں۔

میری بیٹی ڈاکٹر فریدہ خانم نے بتایا کہ جب وہ دہلی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر سے ایم اے کر رہی تھی تو ایک بارکسی کتاب میں تثلیث کا ذکر آیا۔ انہوں نے اپنے مسیحی استاد (پروفیسر جارج) سے پوچھا کہ تثلیث کے عقیدہ کا مطلب کیا ہے۔ عیسائی پروفیسر نے کچھ دیر سوچا، اس کے بعد کہا کہ اگر تم پوچھو تو میں نہیں جانتا اور اگر تم نہ پوچھو تو میں جانتا ہوں:

If you ask me I do not know, if you do not ask me I know. رائے من پانیکر نے دوسرے موقع پر بتایا کہ اسپین میں اسلام کے مطالعہ کا نیا رجحان پیدا ہوا چنانچہ اسپینی زبان میں اسلامی کتابوں کے ترجمے کیے جارہے ہیں، اور لوگ اسلام قبول کر رہے میں نے پوچھا کہ اسلام سے ان کی دلچسپی کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاص وجہ اسلام کی تعلیمات کی سادگی ہے۔ اس کی وجہ سے ہر آدمی فوراً اسلام کو سمجھ لیتا ہے۔ جب کہ دوسرے مذہبوں کی تعلیمات بہت پیچیدہ ہیں۔ دوسری بات انہوں نے یہ بتائی کہ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام نے خدا کو ایک گوشہ میں نہیں ڈالا جیسا کہ دوسرے مذاہب میں کیا گیا ہے۔ Islam has not reduced God to a corner. میں نے ان سے پوچھا کہ اسلام کے بارے میں لوگوں میں کس قسم کی غلط نہی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر جہاد کے بارے میں۔ اس کی وجہ سے عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ یہ کام دو طریقوں سے کیا جانا چاہیے ایک یہ کہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش کیا جائے اور دوسرے یہ کہ مسلمان اپنی ان متشددانہ کارروائیوں کو بند کر دیں، جو وہ اسلامی جہاد کے نام پر کر رہے ہیں۔ (ماہنامہ الرساله، سفرنامہ سوئزرلینڈ، مارچ 2002) بھوپال کے سفر (نومبر 2001) میں مسٹر راجیندر سنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس (canvas) بڑا ہو جائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔

میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر مسلمانوں کا یہی مزاج ، موجودہ زمانہ میں اسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے، وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروں سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کنسرن (concern) ہے، وسیع تر انسانیت ان کا کنسرن ہی نہیں۔ بھوپال کے سفر میں مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا

کریں ، ایسا نہ کریں۔ ایسے فتوے کس حد تک درست ہیں۔

میں نے کہا کہ فتوی کا مطلب رائے (opinion) ہے۔ فتوی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک عالم کے پاس آیا۔ اس نے عالم کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بیان کیا، اور اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم جاننا چاہا۔ اس طرح کے سوال پر اپنے علم کے مطابق ، شرعی حکم بتانا یہ فتوی ہے۔ مگر ہمارے یہاں فتویٰ کی ایک اور قسم رائج ہوگئی ہے جو یقینی طور پر غیر شرعی ہے۔ وہ یہ کہ کوئی مفتی یا مفتیوں کا کوئی بورڈ بطور خود یہ فتوی جاری کرتا ہے کہ جس کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی ہو اس کے پیچھے لوگوں کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فلاں ملک اسلام دشمن ہے اس کی مصنوعات کو خریدنا جائز نہیں، وغیرہ۔ یہ دوسری قسم کا فتویٰ حقیقتا فتویٰ نہیں، وہ یکطرفہ طور پر ہدایت جاری کرنا ہے، اور اس قسم کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار ایک قائم شدہ حکومت کو ہے، نہ کہ کسی مفتی کو۔ صحابہ اور تابعین کی مثال بتاتی ہے کہ وہ حاکمانہ ہدایت کبھی جاری نہیں کرتے تھے۔ کے بجائے وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ مثلاً اگر لوگ داڑھی کی سنت میں غفلت برت رہے ہوں تو صحابہ و تابعین کی سنت کے مطابق ، ایسے لوگوں کے درمیان دعوت و تبلیغ کا کام کرنا چاہیے، نہ کہ بائیکاٹ کا فتوی صادر کرنا۔ مزید یہ کہ باعتبار نتیجہ اس قسم کا فتویٰ سراسر لا حاصل ہے۔ انسان کی اصلاح قلب و ذہن کے بدلنے سے ہوتی ہے، نہ کہ فتاویٰ جاری کرنے سے۔ خود ہندوستان کی مثال بتاتی ہے کہ اہل بدعت کے خلاف لمبی مدت تک فتاویٰ جاری کرنے کے باوجود کوئی مسلمان بدعت سے تائب نہیں ہوا، مگر تبلیغی جماعت کی دعوتی کوششوں سے بہت سے بدعتی اپنے فعل سے تائب اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے فتویٰ کے بجائے نصیحت و تربیت کا انداز اختیار اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دل بدلے اور وہ بدعات سے تائب ہوگئے۔ سفرنامہ بھوپال، مئی (2002)

Printed page