عصر میں میسر
Al-Risala, June 2019, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
11 ستمبر 2001 کو نیو یارک اور واشنگٹن میں جو بھیانک واقعہ ہوا، اس کے نتیجے میں ساری دنیا کا میڈیا اسلام کو ٹرزم (terrorism) کے روپ میں دیکھنے لگا۔ مگر اس عصر میں بھی یُسر کا ایک پہلو نکل آیا۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں تجسس (curiosity) کا ذہن پیدا ہوا۔ چنانچہ پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کا مطالعہ کیا جانے خود اس وقت کے امریکی صدر بش نے واشنگٹن کے اسلامک سینٹر کی زیارت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے اس دوران دو بار قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ جرمنی سے آئے ہوئے مسٹر فاروق نے بتایا کہ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد قرآن کے جرمن ترجمہ
کی مانگ اتنی زیادہ بڑھی کہ مارکٹ سے جرمن ترجمہ کی کاپیاں ایک ہفتے کے اندر ختم ہوگئیں۔ یہی معاملہ اکثر مقامات پر پیش آیا۔
اس طرح کی مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3) ۔ یعنی پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد اب دنیا سے خشیت انسانی کا دور ختم ہو گیا، اب دنیا خشیت ربانی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے معاملہ کو درست رکھیں۔ تک انسان کا معاملہ ہے، اس کو اللہ نے خود نظامِ فطرت کے تحت پیشگی طور پر ہمارے موافق بنا دیا برمنگھم میں کئی چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔ برمنگھم میں قیام (ستمبر 2001) کے دوران ایک سڑک سے گزرتے ہوئے ایک بڑی مسجد نظر آئی۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا— قرآن پڑھیے، جو کہ آخری عہد نامہ ہے: