خدا کا مستند پیغام
Al-Risala, June 2019, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
فروری 1999 میں میں نے ٹریونڈرم (کیرالا) کا سفر کیا تھا۔ 28 فروری 1999ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایر پورٹ پہنچا۔ یہ نیا ایر پورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن میں صحرائے حیات کی وسعت میں تبدیل ہو گئی۔
میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں انسان گویا ایک عظیم صحرا میں کھڑا ہوا ہے۔ وہ راز حیات جاننا چاہتا ہے مگر کوئی درخت یا پہاڑ اُس سے نہیں بولتا۔ کوئی ستارہ یا سیارہ اُس سے ہم کلام نہیں اس خاموش دنیا میں وہ حیران کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا پیغمبر آتا ہے۔ کہتا ہے کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں اور تم کو خدا کا یہ پیغام دیتا ہوں۔ انسان کے لیے یہ کیسی عجیب راحت ہے۔ عقیدہ کے اعتبار سے یہاں بہت سے پیغمبر
مگر ان کی شخصیت اور ان کا پیغام تاریخ کے اندھیروں میں گم ہے۔ یہاں صرف ایک ہی قابلِ یقین پیغمبر ہے اور وہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہیں۔ ایک متلاشیِ روح کے لیے یہ بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے۔ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے نے لمبی تلاش کے بعد جب پیغمبر اسلام کو پایا تو وہ چیخ اٹھے:
What a relief to find after all a truly historical Prophet to believe in. سماجی میل جول میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طور پر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرم (کیرالا) میں لوگ یا تو ملیالم جانتے تھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میں خدا کے فضل سے انگریزی میں بے تکلف بول سکتا ہوں، اور بے تکلف تقریر کر سکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیا حوصلہ پیدا کر دیا۔ یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میںاکٹھا تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میں پیدا مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا، اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر اسلام نے مظلوم اور ناکام حالت میں وفات پائی۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں ہر قسم کی معلوماتی کتابیں بڑے پیمانہ پر تیار کر کے پھیلائی جائیں۔ اسی کے ساتھ بڑے پیمانہ پر مسلم اور غیر مسلم کا انٹرایکشن ہو۔ ڈائیلاگ کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں میں دونوں گروہ کے لوگ بڑی
تعداد میں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم صرف کتابیں چھاپنا کافی نہیں ۔ زندگی کی سرگرمیوں میں دونوں کی شرکت ضروری ہے۔ (ماہنامہ الرساله، کیرلا کا سفر، فروری 2003)