دعوت کیا ہے
Al-Risala, June 2019, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002) میں کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا کام آدمی کو فطرت کے راستہ پر لے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پر قائم کرنا ہے، مسلم و غیر مسلم دونوں کا مسئلہ یہی ہے: Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims. حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385 ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہو جائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے ۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی
کنڈیشننگ کو ختم کرکے انہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔