Al-Risala · June 2019

دعوتی تیاری

Al-Risala, June 2019, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سفر میں ایک صاحب نے اپنی روداد بتائی۔ اس سے موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ایک سفر میں ان کی ملاقات ہندو لیڈی ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ہوئی۔ اس طرح انہیں ڈاکٹر تو گڑیا سے تقریباً تین گھنٹہ بات چیت کرنے کا موقع اسلام کی امتيازی حیثیت کو بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر تو گڑیا سے کہا: Islam was the culmination of the evolution of religion. میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اسلام ارتقائی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا محفوظ قرآن میں کئی مقامات پر پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم پچھلے نبیوں کی پیروی کرو۔ مثلاً فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهُ (6:90)۔ اگر اسلام مذہب کی ارتقائی صورت ہو تو پچھلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ایک ناقابل فہم حکم بن جائے گا۔ اسی طرح اسلام کی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ زمانہ میں مکمل تبدیلی آگئی تھی، اور انسانی ذہن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ خالص تعقل کی سطح پر وہ خدا کی معرفت حاصل کر سکے: Human intelligence had developed sufficiently enough to recognize God through reason.

میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اس لیے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کاروایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلمہ طور پر بہت بعد کو اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دورِ قدیم کا مذہب ہے، وہ دورِ جدید کا انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر تو گڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم خونی نہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے:

I countered by asking if he was aware of the history of یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو دینِ حق کی نمائندگی کر رہا ہو۔ اسلام ہر حال میں با اصول کردار کا حکم دیتا ہے۔ دوسروں کا غلط رویہ اسلام کے لیے کبھی مثال نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر توگڑیا کے مذکورہ بیان کا صحیح جواب یہ تھا کہ اسلام اصولی حیثیت سے ایک پُرامن مذہب ہے۔ البتہ مسلمان، خاص طور پر مسلم حکمران، تشدد کے مرتکب مگر آپ کو چاہیے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو۔

انہوں نے اپنی گفتگو کی تفصیلی رپورٹ دینے کے بعد آخر میں کہا کہ جب میں نے مسلمانوں میں ریفارم کی ضرورت کو تسلیم کیا تو اس موقع پر ڈاکٹر تو گڑیا نے آپ کا نام لیا اور آپ کی کوششوں کے بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مذکورہ مسلمان کے الفاظ یہ تھے: Dr. Togadia asked me about you. He said he had not met اپنے تجربہ کے مطابق، میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو جانتا ہوں۔ اسلام کے بارے میں

ان کا علم محدود ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں جب بولتے ہیں تو وہ اسلام کی یا تو غلط نمائندگی کرتے ہیں یا ناقص نمائندگی۔ ایسے مسلمانوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ یا تو وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر ساری زندگی مطالعہ اور تحقیق میں لگائیں تا کہ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کے قابل ہو سکیں، اور اگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو دوسری صورت ان کے لیے یہ ہے کہ اگر کسی عالم نے اپنی پوری زندگی صرف کر کے اسلام پر ایسا لٹریچر تیار کیا ہے، جس کا اعتراف دوسرے بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں، اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔

Printed page