اکرام مسلم، اکرام انسانیت
Al-Risala, June 2019, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد کے اس سفر میں ایک صاحب نے ملاقات کی اور کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاں گہری خیر خواہی ہو وہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میں اپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں ، جن کے دل میں یہ درد ہو کہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں ، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہو گا کہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرام مسلم کو جانتے ہیں، اکرام انسان کی اہمیت سے شعوری طور پر وہ باخبر ہی نہیں۔