Al-Risala · June 2019

دعوت سے غفلت

Al-Risala, June 2019, pp. 29–34

By Maulana Wahiduddin Khan

میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آ رہے ہیں وہ سادہ طور پر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں ۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے، اہل ایمان کے لیے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں ہے (المائدہ، 5:67)۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ تحفظ ختم نبوت کی تحریک چلاتے مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میں کیا رول ادا کر سکتے ہیں ۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنی ہے

جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نبوت کا تحفظ نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لِّيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (22:78)۔ یعنی تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہر گز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔ خواص میں دعوت انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (2 دسمبر 2002) دیکھا۔ اُس کے صفحہ 67-66 پر برطانی جرنلسٹ سر مارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ 302 صفحہ کی یہ کتاب پینگون بکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:

India in Slow Motion (2002)

اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت (The Reinvention of Ram) کے بارے میں ہے اور آخری باب کا عنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost)۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے: The Sufis and a Plain Faith

اس کتاب کی ترتیب کے دوران سْر مارک ٹلی نے راقم الحروف کا دوبارہ انٹرویو لیا۔ کے مذکورہ باب میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ 156 سے لے کر 161 تک موجود ہے۔

سر مارک ٹلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتاب میں اسلامی تصوف (Sofi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جا کر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful) ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔ سر مارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجیے تا کہ تبلیغ کا کوئی آدمی مل جائے جس سے میں تبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میں نے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہو سکی۔ میں نے ان کو ٹیلی فون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:

(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)

اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:

Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (my wife) not being welcome. (P. 156)

موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طور پر یہ غلطی کی ہے کہ انہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔

می رہا نہ خفاتر بیچ کہا نہ کر سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص ( تعلیمِ افقاط ۳ )

میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابل قبول بن چکا ہے، بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اکبر الہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے، اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔

خواص انتظار میں سے سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کسی زنگ اس سلسلے کا ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون یہ مضمون واضح طور پر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ کا عنوان یہ تھا:

The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind. آج کل ہند و سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے یہاں میڈی ٹیشن کی مخصوص تکنیک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میں جب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر بحث ہوئی۔ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھا رہا ہے۔ ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز (31 دسمبر 2002) میں چھپا تھا۔

سچائی اور کنفیوژن احمد آباد کے سفر ( جنوری 2003) میں، ایک صاحب سے بات کر تے ہوتے ہیں نے کہا احمد آباد کے سفر (جنوری 2003) میں ایک صاحب سے بات کرنے ہوئے کے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد دیکھے جو بے حد شریف تھے۔ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ( ) میں ہے، پس رندوں میں ہی رہے، (روایت بدلی ہے)

اس کے باوجود وہ سچائی کو نہ پاسکے۔ اس کا سبب میرے تجربہ کے مطابق، ذہنی انتشار (confusion) ہے۔ سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کرکے مختلف معلومات سے ایک نتیجہ نکال سکیں ۔ اور غیر متعلق کا فرق سمجھیں۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کر سکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کرکے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ اُن کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ اُنہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔

اسی قسم کے ایک صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافی ذہین اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سخت ذہنی انتشار میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مسکّن (tranquilizer) استعمال کر کے سوتے ہیں۔ ایک دعوتی گفتگو احمد آباد کے سفر (جنوری 2003) میں محمد حسن جوہر صاحب کے گھر پر کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر چونی اور مسٹر وید یا، وغیرہ۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں ادویت واد کا تصور نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں دوئت واد کا تصور ہے، یعنی خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہیں، بلکہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ اس سلسلہ میں میں نے توحید کے عقیدہ کی کچھ تفصیل بیان کی۔

ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ لوگ قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں جو کہ چودہ سوسال پہلے انسان کے حالات تو بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ پھر بدلے ہوئے حالات میں دوسری کتاب کیوں ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عقیدہ سے تو ذہنی ارتقا رک جاتا ہے جب کہ ہندو ازم میں ایسا عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی ارتقاء جاری رہتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں

اسلام کی ابدی تعلیمات کا از سر نو انطباق (re-application) دریافت کیا جائے۔ اس طرح اجتہاد کا اصول اسلام کی ابدیت کو مسلسل باقی رکھتا ہے۔ (ماہنامہ الرسالہ، احمد آباد کا سفر، مئی 2003) دعوت کا ماحول میرٹھ (یوپی) کے سفر (اگست 2003) میں 6 ستمبر کی رات کو محمد ساجد صاحب کے مکان پر کئی ہندو اور مسلمان اکٹھا ہوئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ 6 ستمبر کی شام کے کھانے میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ہندو بھی شریک تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ علامتی طور پر گویا مستقبل کے ہندوستان کی ایک تصویر ہے۔ یعنی وہ ہندوستان جب کہ مسلمان اور ہندو دونوں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہیں گے۔ وہ ایک ساتھ بیٹھیں گے اور ایک ساتھ کھانا کھائیں گے۔ جب ایسا ہو گا تو یہ صرف سماجی معنوں میں میل ملاپ کا واقعہ نہ ہو گا، بلکہ وہ ایک ایسا انٹریکشن ہو گا جو فطری انداز میں دین حق کے تعارف کا ذریعہ بن جائے گا۔

اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے میں نے پایا ہے کہ اسلام کا سب سے زیادہ تعارف جس ذریعہ سے ہوا وہ نارمل ماحول میں انٹریکشن یا باہمی اختلاط سے ہوا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط جب بھی ہوا وہ اسلام کے تعارف کا باعث بنا۔ ہمارے مشن کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کھلے ماحول میں پر امن ڈائیلاگ ہونے لگے۔

Printed page