Al-Risala · June 2019

پیغمبر کا مشن

Al-Risala, June 2019, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

میرٹھ میں کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ دو قسم کے لیڈر دنیا میں رہے ہیں۔ ایک وہ جن کو ریفارمر کہا جا سکتا ہے، اور دوسرے وہ جن کو پرافٹ (پیغمبر) کہا جاتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ریفارمر کا نظریہ انسان بمقابلہ انسان (man versus man) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے اور پرافٹ کا نظریہ انسان بمقابلہ خدا (man versus God) کے اصول پر قائم ہے۔ ریفارمر کا طریقہ ہمیشہ انسانوں میں دو متحارب گروہ ریفارمر یہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے ایک گروہ کو معصوم کے طور پر لیتا ہے اور دوسرے گروہ کو خطا وار کے طور پر۔ اور پھر وہ مفروضہ معصوم گروہ کو مفروضہ خطا وار گروہ سے ٹکرا دیتا ہے۔ مثلاً فرانس کے سیاسی ریفارمر روسو نے انسانیت کو سیاسی مظلوم اور سیاسی ظالم کے نام سے دو گروہوں میں بانٹا۔ چنانچہ روسو کی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) اس جملہ سے شروع ہوتی ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میں اُس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پا تا ہوں : Man was born free. But I find him in chains. اس قسم کا نظریہ ہمیشہ انسانیت کو بانٹتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان گروہی نزاع پیدا وہ انسانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ جیسے منفی جذبات پیدا کرتا ہے۔ پیغمبر کے طریقہ کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلْخَلْقُ عِيَالُ اللَّہِ ( سارے انسان خدا کی فیملی ہیں ) مسند البزار، حدیث نمبر 6947۔ اس نظریہ میں ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اس طرح یہ نظریہ تمام انسان کو ایک اُصول پر متحد کر دیتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات فروغ پاتے ہیں، نہ کہ منفی جذبات۔

Printed page