Al-Risala · June 2019

مومن ایک با اصول انسان

Al-Risala, June 2019, pp. 43–45

By Maulana Wahiduddin Khan

عمر آباد سے مولانا سید اقبال احمد عمری کا پیغام موصول ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ جامعہ دارالسلام عمر آباد کے سابق ناظم (پرنسپل) مولانا خلیل الرحمن ااعظمی عمری کی پیدائش 2 جنوری 1935 کو عمر آباد میں ہوئی، اور 25 جون 2017 کو ان کا انتقال ہوا۔ مولانا خلیل الرحمن عظمی عمری بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ نظم و ضبط کے معاملے میں بلا مبالغہ آپ نے طلبہ کی کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ آخری ملاقات میں ایک ساتھی نے ان سے کہا کہ شیخ آپ کی نظامت بہت سخت تھی، مولانا کا جواب تھا کہ سخت نہیں بلکہ پابند تھی۔

حدیث، نصرت بالرعب، کا مطلب مولانا مرحوم یہ بتایا کرتے تھے کہ اس سے مراد با اصول اصول پسند انسان سے اکثر لوگ ہیبت میں رہتے ہیں، امت اگر اصولی طور پر معاملہ کرے تو یقیناً وہ ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہے۔

اصول پسندی بلاشبہ کسی انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اصول پسندی ایک جامع اخلاقی جس کے اندر اصول پسندی ہے، اس کے اندر تمام اخلاقی اوصاف موجود ہیں۔ ایک لفظ میں قابل پیشین گوئی کردار(predictable character) کا حامل ہوتا ہے۔ پسند آدمی وہ ہے، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جاسکے کہ کس صورت حال میں وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرے گا۔ اصول پسند انسان جیسا اپنے لیے ہوتا ہے، ویساہی وہ دوسروں کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اصول پسند انسان دوسروں کے نفع اور نقصان کو بھی اتنا ہی اہمیت دیتا ہے، جتنا خود اپنے نفع اور نقصان کو۔ اصول پسند انسان اپنے عہد کا پابند ہوتا ہے۔ اصول پسند انسان جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے، اور جب وہ کرتا ہے تو کرنے سے پہلے سوچتا ہے، پھر کرتا ہے جو اس کو کرنا ہے۔ اصول پسند انسان آخری حد تک ایک سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ اصول پسندی بلاشبہ مومن کا کردار ہے۔ اصول پسند انسان وہ ہے جو قول اور عمل کے تضاد سے پاک ہوتا ہے۔

ان کے ساتھ تھی یہ منفی (negative) سوچیں دل و دماغ کا موذی کام کرتی ہیں، یہاں ہمارے ساتھی اس بات سے منفی (negative) ہورہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا حل مکیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا (طارق بدر، پاکستان)

اِس کا منہ خشک ہو جاتا ہے، اس میں تزیق (ترشی) کا احساس ہوتا ہے جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، ان کو قرآن کا مطالعہ کرنا قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیاء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کا معیاری ماڈل تھے۔ جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردعمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : يَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (36:30) ۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردعمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انھوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، ان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام آخری آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ کی دور کا طریقہ موثر نہیں ہوا، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ (method) مؤثر نہ ہو، تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقہ کا تجربہ کرے۔

ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مدد سے کامیاب ثابت ہو۔

Printed page