Al-Risala · June 2019

سوال و جواب

Al-Risala, June 2019, pp. 47–50

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے اندر گویا ایک پیمانہ رکھ دیا گیا ہے جس کو ہم ضمیر کہتے ہیں جس کے ذریعے وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے ۔ یہاں پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عام حالات میں اپنے عمل کا ذمہ دار خود انسان ہے، اور نتیجہ کے طور پر جزا اور سزا کا حق دار بھی ۔ دوسرا ہے عقیدہ کا معاملہ، جو انسان کو اکثر وراثت اور ماحول سے ملتا ہے۔ اسلام میں ہم کو بتایا جاتا ہے کہ ان معاملات میں جن کے اندر انسان کو تمیز حاصل ہے، ہو سکتا ہے اس کی غلطی پر اس کو معاف کر دیا جائے، اور وہیں عقیدہ کے معاملہ میں جہاں کسی طرح کے شکوک کا سامنا ہے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کیا کچھ غیر مناسب نہیں لگتا۔ (ایک قاری الرسالة، ممبئی)

یہ سوال ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ سوال میں کہا گیا ہے کہ عقیدہ کا معاملہ انسان کو اکثر وراثت اور ماحول سے ملتا ہے۔ یہ جملہ ایک غلط بنیاد پر قائم ہے۔ عقیدہ کا معاملہ ہرگز وراثت اور ماحول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ سنجیدہ غوروفکر کے بعد حاصل ہونے والے یقین کا معاملہ ہے۔ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کی کوشش کے ذریعہ اپنے عقیدہ کو درست بنائے۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں صرف درست عقیدہ ہی قبول کیا جائے گا۔ غلط عقیدہ اللہ کے یہاں قابل قبول نہ ہوگا۔ آپ کا یہ جملہ بھی درست نہیں ہے کہ ان معاملات میں جن کے اندر انسان کو تمیز حاصل ہے، ہو سکتا ہے اس کی غلطی پر اس کو معاف کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی غلطی کی معافی اپنے آپ نہیں ہو جاتی، کسی غلطی کی معافی صرف اس وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی کو اس پر ندامت (repentance) ہو، وہ دل سے توبہ کرے ۔ وہ اپنی زندگی کے لیے نیا فیصلہ لے۔ قرآن میں توبۂ نصوح (التحریم، 8: کہا گیا ہے۔ توبۂ نصوح کے بغیر غلطی، غلطی ہی رہے گی۔ اُس میں وجہ یہی تھی ۔ (2019ء 6 ) یہ ہے وجہ اس کی ہی رہی ہے۔

توبۂ نصوح کے بغیر ہرگز کوئی غلطی معاف نہ ہوگی۔

ایک صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں: مزاج کاملیت پسند ہے، جو جذباتی نقصان ہو گیا، دل آج تک اسی میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر معاشرے میں جو مل رہا ہے، وہ دل سے قبول تو نہیں لیکن کیا صبر کر کے جو مل رہا ہے اس پر گزارا کیا جائے، یہ سوچ کر کہ جو ملا ہے وہ اسی دنیا تک اور من پسند چیز آخرت میں ملے گی۔ (ایک قاری الرساله، پاکستان)

آپ نے جس تجربے کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق آخرت سے یا جنت سے نہیں ہے۔ تعلق صرف دنیا کے بارے میں قانون فطرت سے ہے۔ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر حوصلہ مند (ambitious) پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس عارضی دنیا میں محدودیت (limitations) کا قانون ہے۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو اس کے اپنے حوصلے کی نسبت سے کم ملتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا پایا نہیں جاتا، جس نے اپنے حوصلے کے بقدر دنیا کو حاصل کیا ہو۔ اس حقیقت کی بنا پر اس دنیا میں انسان کے لیے دانشمندی یہ ہے کہ وہ ــــ حقیقت پسند بنے، یعنی زیادہ چاہے، مگر کم پر راضی ہو جائے ۔ موجودہ دنیا کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (2:155) ۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔

یہ آیت موجودہ دنیا کے مادی قانون کو بتا رہی ہے۔ اس دنیا میں ایسا ہوگا کہ یہاں انسان کو مختلف پہلوؤں سے نقصان کا تجربہ ہوگا۔ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں نقصان سے بچنا ممکن نہیں، نہ صالح لوگوں کے لیے، اور نہ غیر صالح لوگوں کے لیے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک

چوائس ہے، اور وہ صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں۔ صبر دانش مندی کی بات ہے۔ مطلب ہے، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ملے ہوئے پر کرنا، اور جو نہیں ملا اس کو خدا کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کے خانے میں ڈال دینا ہے۔ یعنی جو ملا اس کو اپنا سمجھنا، اور جو نہیں ملا اس کے بارے میں اس اصول پر راضی ہو جانا کہ وہ خدا کا فیصلہ تھا، اور خدا کے فیصلے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔

میں خدا سے کوئی قلبی تعلق محسوس نہیں کرتا، صرف جنت کی لالچ یا جہنم کا خوف مجھے عبادت کی جانب مائل کرتا ہے۔ اسی طرح میرا یہ سوال بھی ہے کیا اچھے اعمال کی بنیاد پر صرف جنت ملے گی، دنیا میں جو آرزوئیں ادھوری رہ گئی تھیں، وہ نہیں ملیں گی۔ (جہانزیب کمال، کراچی) پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ انسانی نفسیات کے خلاف ہے۔ اس لیے مجھے شک ہے کہ آپ نے خود اپنے آپ کو دریافت نہیں کیا۔ اللہ رب العالمین اور جنت دونوں کو ماننا ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ جو آدمی اللہ رب العالمین کا طالب ہوگا، وہ اسی کے ساتھ جنت کا طالب بھی بن جائے گا۔ دونوں عقیدے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ طالب ہونا، اور خدا سے بے تعلق ہونا دو متضاد حالتیں ہیں۔ کیوں کہ جنت ایک مطلوب چیز ہے، اور اس مطلوب کو دینے والا (giver) صرف اللہ رب العالمین ہے۔ ایسی حالت میں بالکل فطری بات ہے کہ آپ دونوں کو لیں، یا دونوں کو چھوڑ دیں۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت ان افراد کے لیے ہے جو اپنے آپ کو اس کا مستحق جو افراد اپنے اندر جنتی شخصیت بنائے، وہی جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں یہ مبہم قسم کے اعمال کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اپنی شخصیت کی تعمیر کا معاملہ ہے۔ دنیا کی آرزوئیں پوری ہوئیں یا نہیں۔ یہ اصل مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی آدمی

ں ڈائمنڈ کے سر کا تاج جو برطانیہ کی ملکہ (Queen Elizabeth) کے سر پر سجا ہے، نے جنت کے معیار کے مطابق اپنے آپ کو مستحق امیدوار(deserving candidate) بنایا یا جنت میں جو افراد داخل کیے جائیں گے، وہ کبھی اس احساس سے دوچار نہ ہوں گے کہ اس کی فطری آرزوئیں پوری نہیں ہوئیں۔ کیوں کہ جنت میں جو اعلیٰ معیار کی نعمتیں ملیں گی، اس میں وہ پوری طرح اس کے خواہش کی تکمیل موجود ہوگی۔

Printed page