ٹیک اوے
Al-Risala, July 2019, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر کے دوران میں لندن میں تھا۔ ایک روڈ پر چلتے ہوئے مجھے دکھائی دیا کہ ایک دکان کے سامنے ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر نمایاں الفاظ میں یہ لکھا ہوا تھا: یعنی کھانے کا سامان جو خرید کر لے جایا جائے۔ وسیع تر استعمال کے اعتبار سے اس کا انطبا ق (application) ریڈنگ مٹیریل کے اوپر بھی ہوتا ہے، یعنی آپ نے کوئی مضمون یا کتاب پڑھی، اور اس میں آپ کو ایک بامعنی بات ملی، تو آپ کہیں گے کہ اس تحریر میں میرے لیے یہ ٹیک تجربہ بتاتا ہے کہ دوکان کے بارے میں تو یہ لفظ صد فیصد صحیح ہے۔ آپ جب کسی دکان پر جائیں، تو وہاں قیمت ادا کرتے ہی وہ چیز آپ کو مل جائے، جو آپ کو مطلوب تھی۔ ہر دوکان پر وہ ٹیک اوے موجود ہوتا ہے، جس کے لیے وہ دوکان کھولی گئی ہے۔ کوئی دوکان ایسی نہیں، جہاں آپ کا مطلوب ٹیک اوے موجود نہ ہو۔
لیکن جب آپ کسی جریدہ یا کسی کتاب میں لوگوں کی تحریروں کو پڑھیں تو، کم از کم راقم الحروف کے تجربے کے مطابق، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہاں قاری کو کوئی بامعنی ٹیک اوے ملے۔ آپ جو چیز پڑھیں گے، اس میں الفاظ کی بھر مار تو ضرور ہوگی، لیکن کوئی بامعنی ٹیک اوے (meaningful takeaway) مشکل ہی سے ملے گا۔
ٹیک اوے کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں آپ کو ذہنی غذا (intellectual food) ملتی اس میں آپ کو کوئی ایسی وزڈم ملتی ہے، جس کو آپ اپنی زندگی میں اپلائی کرسکیں ۔ آپ کو اپنے سوالات کا جواب ملتا ہے، جو آپ کے ذہن میں وضوح (clarity) میں اضافہ کرنے جس تحریر میں قاری کو کوئی ٹیک اوے نہ ملے، وہ گویا الفاظ کا جنگل ہے، جہاں دہرانے کے لیے تو بہت سی باتیں ہوں لیکن لینے کے قابل کوئی بات نہ ہو۔