احساس محرومی کیوں
Al-Risala, July 2019, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آدمی کارر قصہ ہے۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ سفر کرنے کے لیے اس کے پاس اپنے دو پیروں کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اس کو کہیں جانا ہوتا تو وہ پیدل سفر کر کے جاتا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے لوگ سواریوں پر چل رہے ہیں۔ وہ اکثر سوچتا کہ کاش میرے پاس ایک بائسکل ہوتی تو میں بھی سواری پر چلنے کے قابل ہو جاتا۔
اس نے پیسہ اکٹھا کر کے اپنے لیے ایک بائسکل خریدی۔ اب وہ بائسکل پر سفر کرنے لگا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ وہ دیکھتا کہ دوسرے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر سائیکل ہے۔ اس نے سوچا کہ کاش، میرے پاس بھی موٹر سائیکل ہوتی تو سفر کرنا زیادہ آسان اس نے دوبارہ کوشش کی۔ آخر کار اس کے پاس دو پہیوں والا اسکوٹر ہو گیا۔ شروع کے چند دن اس کے لیے بہت خوشی کے دن تھے۔ لیکن جلد ہی اس کے دل میں ایک اور خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے سوچا کہ دوسرے کئی لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر کار ہے، لیکن میرے پاس نہیں۔ اب اس نے ایک نئی کوشش شروع کر دی۔ کے بعد اس کی یہ کوشش کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ اس نے ایک چھوٹی موٹر کار خرید لی۔ مگر اب بھی اس کی خواہشوں کی حد نہیں آئی۔ اب وہ بڑی موٹر کار کی تمنا کرنے لگا۔ آخر کا وہ دن آیا جب کہ اس کے گھر کے سامنے ایک بڑی کار آکر کھڑی ہو گئی۔ اسی کے ساتھ اس کا کاروبار بھی یہاں تک کہ اس نے دوسری کار اور تیسری کار بھی خرید لی، مگر اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ آخر کا وہ بیمار ہو کر بستر پر پڑ گیا اور پھر اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر مر گیا۔ موت سے ایک دن پہلے اس کا ایک دوست اس سے ملا۔ وہ دیر تک اس کے پاس رہا۔ کے دوران دوست نے اس سے کہا کہ تم ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے ۔ پھر تم نے کاروبار تمھارا کاروبار ترقی کرتا گیا، یہاں تک کہ آج تمھارے پاس مادی اعتبار سے بہت سی چیزیں
کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کہ دنیا میں میری سب خواہشیں پوری ہوگئیں۔ بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے آدمی نے کہا کہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب میں ایک محرومِ تمنا آدمی کی حیثیت سے مر رہا ہوں: Now I am dying as a case of unfulfilled desires. یہ کہانی صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی پوری عمر اس کوشش میں گزار دیتا ہے کہ اس کے دل میں جو خواہشیں چھپی ہوئی ہیں وہ پوری ہوں۔ مگر ہر انسان اس احساس کے ساتھ مر جاتا ہے کہ اس کی خواہشیں پوری نہیں ہوئیں۔ اس معاملے میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔
دوسری طرف حیوانات کو دیکھیے ۔ حیوانات بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھ دن جیتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں، لیکن کوئی بھی حیوان اس دنیا میں احساس محرومی کے ساتھ نہیں مرتا۔ پیدا ہو کر کچھ دن جیتا ہے اور پھر اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے بارے میں کسی بھی قسم کا غم یا افسوس نہیں ہوتا۔
انسان اور حیوان میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب دونوں کے ذہنوں کے فرق میں پایا جاتا حیوان کا ذہن، انسان کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ حیوان خواہ کوئی بھی ہو، اس کا ذہن حال رُخی ذہن (present-oriented mind) ہوتا ہے۔ اس بنا پر حیوان کو جو کچھ مل جائے اُسی کو وہ کافی سمجھتا ہے۔ ہر حیوان صرف آج میں جیتا ہے۔ حیوان کے ذہن میں کل یا مستقبل کا کوئی اس لیے حیوان کو ملے ہوئے سے زیادہ کی کوئی فکر بھی نہیں۔
اس کے مقابلے میں انسان کا ذہن مستقبل رُخی ذہن (future-oriented mind) وہ آج پر قانع نہیں ہوتا، بلکہ وہ کل کے بارے میں بھی فکر مند رہتا ہے۔ اور وہ حال کے ساتھ مستقبل تک کامیاب رہنا چاہتا ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو یہ طویل کامیابی حاصل نہیں ہوتی، اس لیے ہر انسان کا مقدر بن گیا ہے کہ وہ احساس محرومی کے ساتھ دنیا سے چلا جائے۔ تاہم یہ مسئلہ حقیقی نہیں، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا
عرصہ حیات (life span) ابد تک پھیلا ہوا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، موت سے قبل کی زندگی ٹسٹ دینے کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی ٹسٹ کے مطابق، اپنا انجام پانے کی زندگی۔ انسان کا ذہنی تناؤ، یا اس کا احساس محرومی صرف اس لیے ہے کہ وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو سمجھ کر اپنی رائے نہیں بناتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ خالق نے اس کے لیے بعد از موت مرحلۂ حیات میں مقدر کیا ہے، اس کو وہ قبل از موت مرحلہ حیات میں پالینا چاہتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی حقیقت واقعہ کو سمجھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس کو کل ملنے والا ہے، وہ اس کو آج ہی پالینا چاہے۔ جو آدمی درخت لگانے کے دن پھل کا طالب بن جائے اس کے حصے میں صرف مایوسی آئے گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی درخت کی تکمیل پر اس کا پھل لینے پر راضی ہو جائے، اس کے لیے نہ کوئی تناؤ ہے اور نہ کوئی افسوس۔ ذہنی تناؤ دراصل چاہنے اور پانے کے درمیان فرق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس فرق کو مٹا دیجیے اور پھر ذہنی تناؤ کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis) کرے، اس کے اندر پازیٹیو تھنکنگ پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سے خالی ہو، اس کے اندر وہ صفت ہوتی ہے، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأرنا الباطل باطلا، وارزقنا اجتنابه، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِسًا عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ (تفسیر الرازی، یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔