Al-Risala · July 2019

تعلیم یافتہ کون

Al-Risala, July 2019, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلیم یافتہ سے ہماری مراد ڈگری یافتہ نہیں ہے، بلکہ شعور کا مالک ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس سماج میں لوگ پڑھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، یعنی مصلحین اور عام لوگوں کے درمیان فکری بُعد (intellectual gap)۔ ہمیشہ اور ہر دور میں مصلحین ہوتے ہیں، لیکن اگر سماج میں تعلیم عام نہ ہو تو لوگ ان مصلحین کی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس بنا پر سماج میں تربیتِ شعور کا عمل رُک جاتا ہے۔ یہی خاص حکمت ہے جس کی بنا پر تمام اعلیٰ دماغ لوگ عمومی تعلیم کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم کا مقصد جاب (job) حاصل کرنا ہے۔ میرے نزدیک جاب کا مسئلہ ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہاں مصلحین کو ایسے لوگ مل جاتے ہیں، جو کسی بات کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ اس کے برعکس بے پڑھے لکھے سماج میں ایسے افراد موجود نہیں ہوتے۔ غیر تعلیم یافتہ سماج میں لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں وہ معاملات کا گہرا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ مثلاً اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ حالاں کہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل مسئلہ فقدانِ قیادت نہیں ہے، بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت ہے۔ ہمارے یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُن افراد کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے، جو ہائی پروفائل میں بولتے ہوں، حالاں کہ دانش مند ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتا ہے۔

اسی طرح باہمی نزاعات میں لوگ اکثر آئیڈیل سلوشن کی بات کرنے لگتے ہیں، حالاں کہ اس طرح کے معاملات ہمیشہ پریکٹیکل سلوشن کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ اکثر لوگ جب قومی معاملات میں بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ غیر مفاہمانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ خود اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور مصالحت کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اس فرق کا

سب سے کے ذاتی معاملے میں آدمی کی جبّت (instinct) کی رہنمائی کے لے کافی ہے، جو ہر ایک سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کی جبلت (instinct) ہی رہنمائی کے لیے کافی ہے، جو ہر ایک کو حاصل ہوتی ہے، مگر ملّی اور قومی معاملات میں مفاہمت اور مصالحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ شعور درکار ہے، جو ایک کم تعلیم یافتہ معاشرہ میں لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کی منتخب کتابوں کا سیٹ مسجد اور مدرسے اور لائبریری میں پہنچانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ (1) بڑا سیٹ، 21 کتابیں ، خاص رعایتی قیمت -/1000 مع پوسٹل چارج (2) چھوٹا سیٹ ، 9 کتابیں ، خاص رعایتی قیمت -/500 مع پوسٹل چارج جو حضرات اپنے خرچ پر ان سیٹ کو کسی مسجد یا مدرسے یا لائبریری میں گفٹ کرنا چاہتے ہیں ، وہ گڈ ورڈ بکس ، نئی دہلی میں درج ذیل نمبر پر رابطہ قائم کریں : +91 85888 22672 ماہنامہ الرسالہ کو مسجد، مدرسے اور لائبریری میں پہنچا.. نے کا پروگرام ماہنامہ الرسالہ کو مسجد، مدرسے اور لائبریری میں پہنچانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

خاص رعایتی سبسکرپشن قیمت برائے ایک سال : 150/- جو حضرات کسی مسجد یا مدرسے یا لائبریری میں اپنے خرچ پر جاری کرانا چاہتے ہیں، وہ اس نمبر پر رابطہ کریں:

Printed page