Be always insan friendly.
Al-Risala, July 2019, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر ایک آپ کے لیے مددگار (cooperative) بن جاتا ہے اور جب پورا سماج آپ کے لیے مددگار بن جائے تو فطری طور پر یہ ہوگا کہ آپ کا ہر کام آسانی کے ساتھ ہونے لگے گا۔ یہ احساس آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے گا کہ آپ جو کام بھی کریں اس میں دوسروں کی طرف سے آپ کے لیے کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔
دوستانہ رویہ کا کوئی محدود مفہوم نہیں۔ کسی سے میٹھی بات بولنا بھی دوستانہ رویہ ہے، راستہ سے رکاوٹ ہٹا دینا بھی دوستانہ رویہ ہے، کسی کو ایک اچھا مشورہ دینا بھی دوستانہ رویہ ہے، کسی کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا بھی دوستانہ رویہ ہے، کسی کے خلاف اپنے دل میں برا خیال نہ رکھنا بھی دوستانہ رویہ ہے، کسی سے شکایت کے باوجود دل میں تلخی نہ رکھنا بھی دوستانہ رویہ ہے، خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کسی کے لیے دعا کرنا بھی دوستانہ رویہ ہے، ضرورت کے وقت کسی کے کام آنا بھی دوستانہ رویہ کسی کو دکھ نہ پہنچائیے، آپ کو بھی کسی سے دکھ کا تجربہ نہیں ہوگا۔ ہر ایک کے لیے نفع بخش بن جائیے، آپ کو بھی ہر ایک سے نفع ملنا شروع ہو جائے گا۔
تعلیم کا مقصد ملازمت نہیں، تعلیم کا مقصد لوگوں کو با شعور بنانا ہے۔ یعنی ایسا انسان جو معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ جانے، جو حالات کا تجزیہ کر کے صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہو۔ انسان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جذباتی اقدام نہ کرے ۔ وہ صحیح و غلط اور ممکن و ناممکن کے درمیان فرق کر سکے ۔ ایسا انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ استحصالی لیڈروں کے بہکاوے میں نہ وہ خود اپنی عقل کے تحت درست فیصلہ کرے ۔ ایسا ہی انسان وہ انسان ہے جس کو حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ انسان کہا جا سکے۔ اسکول اور میڈیا دونوں کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے انسان پیدا کرنے کی کوشش کرے۔