ایک لفظ کا فرق
Al-Risala, July 2019, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب جن کی تعلیم ایک مدرسہ میں ہوئی ہے۔ 12 دسمبر 2017 کو ان سے ملاقات انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے 2005 میں آپ سے ملا تھا۔ اس وقت میں نے کہا تھا کہ میرے اندر احساس کمتری بہت زیادہ ہے۔ اس کا کوئی حل بتائیے ۔ میں نے کہا کہ آپ صرف ایک لفظ بدل دیجیے۔ ابھی تک آپ احساس کمتری کا لفظ بولتے ہیں۔ آج سے آپ احساس غلطی کا لفظ بولنا شروع کر دیجیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کا سارا معاملہ درست ہو جائے گا۔ آج کی ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ یہ بات آپ نے ایک ڈائری میں لکھی اور وہ ڈائری مجھ کو دے دی۔ اسی وقت سے میں نے اس نصیحت کو پکڑ لیا ہے۔ اب میں یہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اپنی غلطی کو دریافت کرتا ہوں، اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے سارے معاملات درست ہو گئے۔ گھر کے معاملات بھی، پڑوسیوں کے معاملات بھی، اور مسجد اور مدرسے کے معاملات بھی۔ پہلے میں برابر ٹینشن میں رہتا تھا، اب مجھے کوئی ٹینشن نہیں۔ کوئی شکایت نہیں۔ کسی سے کوئی جھگڑا نہیں۔ اب میں یہ کرتا ہوں کہ کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو میں خود ہی سوچ کر اس کو درست کر لیتا ہوں۔ اب سب لوگ مجھ سے خوش رہتے ہیں ۔ جب کہ پہلے ہر شخص کو مجھ سے شکایت ہوتی تھی۔
یہ کرشمہ صرف ایک پر حکمت بات کا تھا۔ وہ یہ کہ اس سے پہلے وہ غلط تقابل (comparison) کا شکار تھے۔ اب انھوں نے احساس کمتری کے جملے کو بدل کر احساس غلطی بنا پہلے وہ دوسروں کے خلاف سوچا کرتے تھے، اب وہ اپنی اصلاح آپ کے انداز میں سوچنے بظاہر یہ ایک لفظ کا فرق تھا، لیکن یہ لفظ اتنا زیادہ پر حکمت تھا کہ اس نے ان کی پوری زندگی کو بدل دیا۔ ان کو منفی شخصیت (negative personality) سے نکال کر مثبت شخصیت (positive personality) بنا دیا۔