الخیر فیما وقع
Al-Risala, August 2019, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مشہور عربی قول ان الفاظ میں آیا ہے: الخیر فیما وقع یعنی جو ہوا، وہی بہتر ہے: یہ قول غالباً امید خیر کے معنی میں ہے۔ یعنی معاملے کا سرا سب کا سب اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے یہ امید رکھو کہ جو ہوا، اس میں خدا وند رحمن و رحیم نے ہمارے لیے کوئی خیر رکھا اس طرح یہ قول گویا دعا کے معنی میں ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے: اِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ بندوں کے بارے میں اللہ رب العالمین کا یہ فیصلہ ہے تو بندے کو ہر حال میں اپنے رب سے خیر کی امید
لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ کے فیصلے رحمت کا نتیجہ فوراً سامنے آجائے۔ نتیجے میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن اصولی اعتبار سے اللہ کا فیصلہ بہر حال بندے کے لیے رحمت پر مبنی فیصلہ ہوگا۔ اپنی سوچ کے لحاظ سے رحمت کا طالب ہوتا ہے، لیکن اللہ کا فیصلہ رحمت کے عمومی مصلحت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ بندہ جلدی کا طالب ہو، لیکن اللہ کا فیصلہ بندے تک تاخیر کے ایسی حالت میں بندہ کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں امید پر قائم رہے۔ وہ ہر حال میں یقین رکھے کہ اللہ رب العالمین اس کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمائے گا، خواہ اس فیصلے کا ظہور تاخیر کے ساتھ ہو، یا جلد ہی اس کا ظہور سامنے آجائے۔
بندہ اپنی خواہش کے مطابق طالب بن جاتا ہے، لیکن اللہ کا فیصلہ اپنے مقرر منصوبہ کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ کو زیادہ بہتر طور پر معلوم ہے کہ بندہ کے لیے خیر کس چیز میں ہے۔ اللہ کا فیصلہ خود اپنے فیصلے کے مطابق ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ بندے کی خواہش کے مطابق۔ بندہ کو یقین رکھنا چاہیے کہ اس کے حق میں اللہ کا جو فیصلہ بھی ہو، بہر حال وہ اس کے لیے خیر پر مبنی ہوگا۔