قرآن ، کتاب مهجور
Al-Risala, August 2019, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (25:30)۔ یعنی رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔
اس آیت سے اولا وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے، مگر وہ اس پر ایمان نہیں جیسا کہ مکی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :
” آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرآت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت داخل ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے ماننے والوں کے لیے قرآن کو ’کتاب مہجور‘ بنانے کی یہ شکل کبھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام و تقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے ۔ برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنمائی لینا چھوڑ دیتے ہیں ۔ خدا کی کتاب میں ان کے لیے ذہنی غذا نہیں ہوتی ۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایہ نہیں وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لیے برکت کا تعویذ تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ یہ مطلب ہے خدا کی کتاب کو ”کتاب مہجور“ بنا دینے کا۔