Al-Risala · August 2019

دعوت کے کام میں استقامت

Al-Risala, August 2019, pp. 10–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں پیغمبرِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهُلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (46:35)۔ یعنی پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لیے جلدی نہ کرو جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے۔ وہی لوگ برباد ہوں گے جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔

دعوت الی اللہ کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں داعی کو ہر قدم پر استقامت (perseverance) کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ استقامت سے مراد یہ نہیں ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان لڑائی ہو، اور آپ اس میں جم کر مقابلہ کریں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے صبر و برداشت کی دعوت الی اللہ کا کام پورا کا پورا صبر و برداشت کا امتحان ہے۔ مدعو کی بے رخی کو برداشت کرنا، مدعو کی کڑوی باتوں کو برداشت کرنا، مدعو کی گالیوں کے جواب میں ان کے لیے دعائیں کرنا، وغیرہ۔

دعوت الی اللہ کا کام ایک طرفہ صبر کا کام ہے۔ دعوتی اخلاق یہ ہے کہ مدعو آپ سے بدسلوکی کرے، اور آپ اس کے ساتھ اچھے اخلاق پر قائم رہیں۔ داعی کے اخلاق کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي (جامع الاصول، حدیث نمبر 9317)۔ یعنی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس سے جڑوں، جو مجھے کاٹے، اور میں اس کو عطا کروں، جو مجھے محروم کرے، اور اس کو معاف کردوں، جس نے مجھ پر

دعوت الی اللہ کا کام ایک ایسا کام ہے، جس میں مدعو کے مقابلے میں داعی کا کوئی حق نہیں

ہوتا، اس کی صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن یہ تھا کہ بت پرستی کے کلچر کو دنیا سے ختم کیا جائے، لیکن آپ نے پہلے لمبی مدت تک اس بت پرستی کے کلچر کو برداشت کیا، حتیٰ کہ آپ نے اس کو بھی برداشت کیا کہ لوگ مقدس کعبہ کو عملاً بت پرستی کا مرکز بنا دیں۔ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کو برداشت کرتے ہوئے، اس کو آپ بطور موقع استعمال چنانچہ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کے اجتماع کو اپنے لیے لمبی مدت تک بطور آڈینَس (audience) استعمال کیا۔ کعبہ میں آپ نے بت پرستی کی سرگرمیوں کو دیکھا، اور اس پر کبھی احتجاج یا ٹکراؤ نہیں کیا، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں دعوتی تیاری کا پہلا کام یہ ہے کہ اہل ایمان اس حقیقت کو دریافت کریں کہ ان کی حیثیت داعی کی ہے، اور دوسری اقوام کی حیثیت مدعو کی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ماضی کے اثر کے تحت اس حقیقت سے بے خبر ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک قوم اور دوسرے لوگوں کو دوسری قوم سمجھتے ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ ہے، اور دو قومی نظریہ ایک سراسر غیر اسلامی تصور ہے۔ مبنی بر جہالت تصور ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک انقلابی پیغمبر تھے۔ مگر یہ انقلاب ایک پر اسس کے روپ میں لمبی تاریخ کے دوران ظہور میں آیا، نہ کہ کسی اچانک اعلان کے ذریعے ۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ ایک عالمی پیغمبر تھے۔ لیکن اس کا ظہور یکبارگی نہیں ہوا، بلکہ تاریخی پر اسس کی صورت میں لمبی مدت کے دوران ہوا۔ اس تاریخی پر اسس میں صرف امتِ محمدی شامل نہیں تھی، بلکہ دوسری اقوام نے بھی اس تاریخی پر اسس میں حصہ لیا۔ اس نکتے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اکیسویں صدی میں امتِ محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرضِ عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیینِ حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباً اسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔

The Need for Re-orientation in Islamic Da‘wah پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ (اسلامی دعوت) تھا۔ آپ نے یہ کام 610ء میں مکہ میں شروع کیا۔ اُس وقت آپ اس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔ اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئیڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے، یہاں تک کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ضروری تیاریاں کرنے اُس وقت، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں جوابی مقابلے کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی طاقت کو مجتمع کر کے وہ مشرکین سے لڑیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کر دیا کہ تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فإنّي لم أومر بالقتال ) المواهب اللدنية بالمنح المحمدیةجلد 1 ، صفحہ 199۔

اگر آپ کار پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سفر کریں تو درمیان میں بار بار دوسرے مقامات کو جانے والے راستے آتے ہیں۔ آپ ان راستوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ اپنی گاڑی کو سیدھے رخ پر چلاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ معاملہ اسلامی تحریک کا ہے۔ اسلامی تحریک کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے، مگر تحریک جب عملاً جاری ہوتی ہے تو سفر کے دوران بار بار موڑ کے مقامات آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ضروری ہوتا ہے کہ تحریک کو کسی اور طرف مڑنے سے بچایا جائے، اور اُس کا سفر دعوت الی اللہ کی منزل کی

طرف جاری رکھا جائے۔

مکی دور کے آخر میں اس قسم کی ایک صورت حال پیش آئی۔ اُس وقت اگر ایسا ہوتا کہ اہلِ ایمان کی جماعت، مشرکین کی جماعت کے ساتھ متشددانہ ٹکراؤ شروع کر دے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلامی تحریک، دعوت الی اللہ کی صراطِ مستقیم سے ہٹ کر قتال کی جانب مڑ گئی۔ ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ مشرک سردار اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

یہ وقت، دعوت کی سمت سفر کی دوبارہ تصحیح (re-orientation) کا تھا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ ہجرت کیا تھی، وہ فرار (flight) یا پسپائی نہ تھی، ہجرت دراصل ایک تدبیر تھی، جس کے ذریعے پیغمبر اسلام نے اسلامی دعوت کو متشددانہ ٹکراؤ کی طرف مڑنے سے بچایا۔ اس تدبیر سے آپ کو یہ موقع مل گیا کہ دعوت الی اللہ کا جو کام آپ مکہ میں کر رہے تھے، اس کو آپ مدینہ میں جاری رکھیں۔ ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقامِ عمل کی تبدیلی تھی، نہ کہ سادہ طور پر ترکِ وطن۔ اس تدبیر کا غیر معمولی فائدہ ہوا۔ چنانچہ اسلام تیزی سے مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں پھیلنے لگا۔

مگر مکہ کے مشرک سرداروں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انھوں نے اسلامی تحریک کو بزورِختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مشرک سردار اُس وقت عرب میں سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کو ہر قسم کے ذرائع حاصل تھے۔ ان کو وہ طاقت بھی حاصل تھی، جس کو موجودہ زمانے میں ٹرانس بارڈر ملٹری کیپیبلٹی (trans-border military capability) کہا جاتا ہے، یعنی سرحد کو پار کر کے حملہ کرنے کی صلاحیت۔

اب مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فوج تیار کریں اور اقدام کر کے مدینہ پر باقاعدہ حملہ شروع کر دیں۔ اس معاملہ کا پہلا بڑا واقعہ وہ تھا، جس کو غزوۂ بدر (2 ہجری) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد غزوۂ اُحد (3 ہجری) کا واقعہ پیش آیا۔ اس طرح جھڑپوں کی صورت میں کئی متشددانہ واقعات پیش آئے۔

مشرکین مکہ کے جنگی ارادوں نے دوبارہ اسلامی تحریک کے لیے خطرہ پیدا کر دیا کہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر قتال کے راستے کی طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت دوبارہ اُس تدبیر کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی، جس کو ہم نے ری اورینٹیشن (re-orientation) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص تدبیر کے ذریعے مشرکین سے ختم جنگ کا وہ معاہدہ فرمایا، جس کو معاہدۂ حدیبیہ (Hudaybiyah Agreement) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 6 ہجری میں طویل گفت وشنید کے بعد کیا گیا۔ اس معاہدے میں پیغمبر اسلام نے مشرک سرداروں کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اس لیے کہ آپ اُنھیں راضی کریں کہ وہ جنگ کا راستہ چھوڑ کر قیامِ امن کے طریقے کو اختیار کر لیں۔ اس معاہدے کا یہ تاریخ ساز فائدہ ہوا کہ اسلامی تحریک جنگی انحراف سے ہٹ کر دعوت الی اللہ کے راستے پر آگئی۔ اس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ نہ صرف عرب میں، بلکہ بیرونِ عرب تک اسلامی دعوت کے کام کو منظم طور پر پھیلا سکیں۔ حدیبیہ ایگری منٹ کی اِسی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اُس کو فتح مبین (الفتح، 48:1) کہا گیا ہے، یعنی کھلی ہوئی فتح۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حدیبیہ ایگری منٹ فریقِ مخالف کی شرطوں پر کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے بارے میں صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ یہ معاہدہ پسپائی کا معاہدہ اس کے باوجود کیوں قرآن نے اس کو فتح مبین قرار دیا۔

قرآن کا یہ اعلان دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہے کہ اس دنیا میں ٹکراؤ کے مقام پر پیچھے ہٹنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں شکست پر راضی ہونے والے کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں ہار کا نتیجہ جیت کی صورت میں نکلتا ہے: Success is the outcome of defeat. بدقسمتی سے بعد کی صدیوں میں مسلمان اس پیغمبرانہ حکمت کو بھول گئے۔ حدیبیہ اسپرٹ سے لوگ اتنا زیادہ غافل ہو گئے کہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا، جو اس عظیم حکمت کو سمجھے اور دوبارہ مسلمانوں کے اندر حدیبیہ اسپرٹ کو زندہ کرنے کی کوشش کرے۔ مزید بدقسمتی یہ

ہے کہ موجودہ زمانے میں بھی بے خبری کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج ایسے لوگ تو بہت ملیں گے جو حدیبیہ کی بات کو پسپائی قرار دیں گے، لیکن ایسے لوگ تقریباً معدوم ہیں، جو حدیبیہ کے اندر چھپے ہوئے دعوتی امکانات کو سمجھ سکیں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد اسلام، سیاسی عظمت کے دور میں داخل اب اسلام نے ایمپائر کی صورت اختیار کرلی— اُموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، فاطمی ایمپائر، اندلسی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر، وغیرہ۔ یہ دور تاریخی اعتبار سے عظمت کا دور تھا، لیکن دعوت الی اللہ کے اعتبار سے وہ انحراف (diversion) کا دور بن گیا۔

اب مسلمانوں میں دعوتی ذہن کے بجائے سیاسی ذہن عام ہو گیا۔ اسی سیاسی ذہن کے تحت یہ کہا جانے لگا کہ مسلمان زمین میں خدا کے خلیفہ (vicegerent of God) ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کریں۔ اسی سوچ کے زیر اثر یہ نظریہ پیدا ہوا کہ مسلم ممالک ’دار الاسلام‘ ہیں اور غیر مسلم ممالک ’دار الحرب‘ یا ’دار الکفر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظریے کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے بجائے حریف اور رقیب کے روپ میں دیکھنے لگے۔ مسلمان عمومی طور پر دعوت الی اللہ کے طریقے سے ہٹ کر سیاسی اقتدار کے منحرف راستے پر چلنے لگے۔ ان بعد کی صدیوں میں اگرچہ عمومی سطح پر مسلمانوں کا ذہن یہی تھا، لیکن جزئی طور پر مسلمانوں کے اندر ایسے گروہ اٹھتے رہے، جو غیر سیاسی میدان میں اسلام کو آگے بڑھاتے رہے۔ طور پر محدثین نے سیاسی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اپنے آپ کو حدیثِ رسول کی خدمت میں لگایا۔ حکمرانوں سے دوری اختیار کر کے روحانی ارتقا کا کام کیا، جس کا فائدہ دعوت الی اللہ کے اعتبار سے بھی اسی طرح ایسے علما پیدا ہوتے رہے جنھوں نے سیاسی جہاد سے الگ رہ کر مسجد اور مدرسے جیسے ادارے سنبھال لیے، اور اُن کے ذریعے بالواسطہ طور پر دعوت کی اسپرٹ زندہ رکھی۔ اسی قسم کی غیر سیاسی شخصیتوں کا ایک بڑا کارنامہ وہ ہے، جو تیرھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ تاتاری قبائل بعض وجوہ سے مسلمانوں کے مخالف بن گئے۔ انھوں نے ایک بڑا لشکر تیار کر کے عباسی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر بغداد اور حلب تک، مسلم علاقے کو

زبردست نقصان پہنچایا۔ انھوں نے ہلاکو خان کے زیر قیادت 1258ء میں عباسی سلطنت کا خاتمہ لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ ان تاتاری فاتحین نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ اتنا حیرت انگیز تھا کہ مورخین نے اس کا مندرجہ ذیل قسم کے الفاظ میں اعتراف کیا:

The conquerors have accepted the religion of the conquered. (T.W. Arnold, The Preaching of Islam, London, 1913, p. 2)

The religion of the Muslims had conquered, where their arms had failed. (P.K. Hitti, History of the Arabs, London, 1989, p. 488)

انیسویں صدی عیسوی میں اسلام کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوتی ہے۔ اب ایسا ہوا کہ مغربی قو میں جدید سائنس اور جدید ٹکنالوجی سے مسلح ہو کر مسلم علاقوں میں داخل ہو گئیں۔ ایشیا اور افریقہ کے مسلم ملکوں پر براہ راست یا بالواسطہ قبضہ کر لیا۔ اس دور کو نو آبادیاتی دور (colonial period) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں دعوت الی اللہ کے نقطہ نظر سے سب سے بڑا انحراف پیدا ہوا۔ اب تمام دنیا کے مسلمان منفی ردعمل کا شکار ہو گئے۔ ہر جگہ ایسے مسلم لیڈر اٹھے، جو مغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتا کر ان کے خلاف فکری یا عملی لڑائی لڑنے لگے۔ نو آبادیاتی دور ایک اعتبار سے گلوبل انٹریکشن (global interaction) کا دور تھا۔ کمیونی کیشن کی بنا پر ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں لوگوں کی آمد و رفت بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔ دوران قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ مغربی قوموں کا انٹرایکشن مسلمانوں سے ہونے لگا۔ ایک نیا عملی شعبہ استشر اق (orientalism) پیدا ہوا جس کے تحت، مغربی علماء بڑے پیمانے پر اسلامی مضامین کا مطالعہ کرنے لگے۔

اسلام ایک فطری مذہب ہے، وہ انسان کی فطرت کو اپیل کرتا ہے، وہ ہر متلاشی حق (seeker) کے لیے، اُس کی اپنی تلاش کا جواب ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام خود اپنے زور پر لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں داخل ہونے لگا۔ مغرب کے سنجیدہ افراد اپنے آپ اسلام قبول کرنے لگے۔ برطانیہ میں لارڈ ہیڈلے فاروق، ہنگری میں ڈاکٹر عبد الکریم جُرمانوس، آسٹریا میں ڈاکٹر لیوپولڈ اسد،

تاہم یہ دعوتی عمل (da'wah process) زیادہ بڑے پیمانے پر جاری نہ ہوسکا۔ کیوں کہ زیادہ بڑے پیمانے پر دعوتی عمل جاری ہونے کے لیے ضرورت ہے کہ مسلمان براہ راست دعوتی سرگرمیاں مگر ابلیس نے اپنی تزئین کے ذریعے مسلمانوں کو غیر دعوتی کاموں کی طرف متوجہ کر دیا۔ بنا پر دعوتی عمل مسلمانوں کی مین اسٹریم (mainstream) میں داخل نہ ہوسکا۔ ابلیس یا شیطان یہ کام کس طرح کرتا ہے، اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خدا کے حکم کے باوجود جب ابلیس، آدم (انسانِ اوّل) کے سامنے نہیں جھکا، تو خدا نے ابلیس کو ملعون قرار دیا۔ اس پر غصہ ہو کر ابلیس نے کہا کہ میں انسان کو تیرے راستے سے بھٹکاؤں گا میں ان کی اکثریت کو تیری رحمت سے دور کر دوں گا (لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ) الحجر ، 15:39۔ اس آیت میں 'اغوائ' کا لفظ ہے۔ اغوا کے لفظی معنی ہیں سیدھے راستے سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے لیے جہنم مقدر ہو گئی، اس لیے انتقامی جذبے کے تحت اس نے کہا کہ میں تمام انسانوں کو تیرے راستے سے منحرف کر دوں گا:

Printed page