Al-Risala · August 2019

I will certainly cause them all to deviate.

Al-Risala, August 2019, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

ابلیس کے پاس انسان کو بھٹکانے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ وہ ہے جو خاص طور پر اہل ایمان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اہلِ ایمان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد داعی الی اللہ کے حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیثیت بیک وقت دو اعتبار سے نہایت ایک، یہ کہ اگر دعوت الی اللہ کا کام رک جائے تو عام انسانوں کے لیے جنت کی طرف رہنمائی کا عمل ختم ہو جائے گا۔ دوسرے، یہ کہ دعوتی عمل چھوڑنے کی صورت میں خود اہلِ ایمان اپنی اہم ترین حیثیت کھو دیں گے۔ اس لیے اہلِ ایمان کے سلسلے میں ابلیس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُنھیں دعوت الی اللہ کے کام سے غافل کر دے۔

ابلیس یہ کام کس طرح کرتا ہے، اُس کا جواب 'اغوا' کے لفظ میں موجود ہے، جس کو ابلیس نے اپنے چیلنج کے وقت استعمال کیا تھا۔ اغوا کا لفظی مطلب انحراف (deviation) ہے۔ اس سے یہ

معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ابلیس کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ توجہ کو پھیرنا (distraction) اس کوشش میں اُس کا انحصار تزئین پر ہوتا ہے، یعنی دعوت کے سوا کسی اور چیز کو مزین کرکے یہ کوشش کرنا کہ لوگ دعوتی راستے کو چھوڑ کر کسی اور راستے کی طرف سرگرم ہو جائیں۔ کام کی اہمیت کو گھٹانا، اور غیر دعوتی کام کی اہمیت کو بڑھانا، یہ اس معاملے میں ابلیس کا خاص حربہ ہے، جس کو وہ ہر زمانے کے مسلمانوں کے اوپر استعمال کرتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ نے نو آبادیاتی طاقتوں کو اتنا کم زور کر دیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ میں اپنے سیاسی قبضے کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہے۔ چنانچہ دھیرے دھیرے نو آبادیاتی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ نو آبادیاتی دور نے مغل سلطنت اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ کیا تھا، اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے اندر مغربی قوموں کے خلاف منفی ذہن پیدا ہو گیا۔ سیاسی ایمپائر کو کھونے کا غم مسلمانوں کے ذہن میں اتنی قوت سے بیٹھ گیا تھا کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ نو آبادیاتی دور کے خاتمے نے اُن کو نئی سیاسی زندگی دے دی ہے۔

پہلے اگر مسلمانوں کے خیال کے مطابق، انھوں نے اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا تھا تو اب قومی ریاستوں (nation states) کی صورت میں اُس کو دوبارہ انھوں نے مزید اضافے کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ چنانچہ اب زمین کے مختلف حصوں میں 57 مسلم ریاستیں قائم ہیں۔ ریاستوں کو آج جو ذرائع حاصل ہیں، وہ قدیم زمانے میں کسی بھی مسلم ایمپائر کو حاصل نہ تھے۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے دعوت کے نقطہ نظر سے بہت سے نئے امکانات کھول مثلاً کمیونی کیشن، مذہبی آزادی، عالمی انٹریکشن، وغیرہ۔ لیکن مسلمان ان جدید مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ دوبارہ ایسا ہوا کہ وہ مختلف قسم کے انحرافات (distractions) کا شکار ہوگئے، اور دعوت کے راستے سے بھٹک کر دوسرے غیر دعوتی راستوں میں سرگرم ہو گئے۔ مثلاً مدعو سے نفرت اور متشددانہ ٹکراؤ، مدعو پر اپنی برتری قائم کرنے کے لیے مناظرہ، اپنا علاحدہ قومی تشخص برقرار رکھنے کے لیے کمیونٹی ورک، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں تقریباً عالمی پیمانے پر مسلم رہنماؤں نے یہ غلطی کی ہے کہ ہر جگہ سیاسی شکایتوں کو لے کر انھوں نے لڑائی چھیڑ دی، کہیں غیر مسلم قوموں سے اور کہیں خود اپنی سرزمین کے مسلم یہ لڑائی مسلم حکومتوں نے نہیں، بلکہ مسلم رہنماؤں نے اس کی قیادت کی۔ ایک غیر اسلامی فعل تھا۔ غیر مسلم قوموں سے مسلمانوں کو سیاسی، یا قومی شکایتیں لے کر لڑنا نہیں ہے، بلکہ شکایتوں کو نظر انداز کر کے پرامن طور پر اُنھیں دعوتِ حق کا مخاطب بنانا ہے۔ سیاسی اور قومی شکایتوں کی بنیاد پر مدعو قوموں سے لڑائی چھیڑ نا بلا شبہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ واضح طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں پر صبر کرو۔ شکایتی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، مثبت انداز میں انھیں حق کا پیغام پہنچاتے رہو۔

یہی معاملہ مسلم حکمرانوں کا ہے۔ علما کے اتفاق رائے کے مطابق، مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ اس معاملے میں مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، دعوت اور تعلیم کے میدان میں پر امن جدوجہد کریں اور ایسا کرتے ہوئے مر جائیں۔ مگر موجودہ زمانے میں علما اور رہنماؤں کی بڑی اکثریت نے اس کے خلاف عمل کیا۔ اس کے نتیجے میں دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ پاسکا، حالاں کہ وہ مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری تھا۔

مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جس نے مسلم ٹکراؤ کا کام تو نہیں کیا، لیکن انھوں نے ایک اور کام کیا جو عملی ٹکراؤ سے کم نقصان دہ نہ تھا۔ یہ مناظرہ یا ڈبیٹ (debate) ہے۔ یہ لوگ متشدّدانہ ہتھیار استعمال نہیں کرتے، البتہ وہ اسٹیج پر لفظوں کے ذریعے وہی کام انجام دے رہے ہیں، جو دوسرے لوگ مقابلے کے میدان میں ہتھیاروں کے ذریعے انجام دے رہے ہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے کام کو دعوت کا عنوان دیے ہوئے ہیں، حالاں کہ وہ دعوت نہیں ہے، بلکہ وہ مناظرہ یا ڈبیٹ ہے، اور مناظرہ یا ڈبیٹ کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان شکست خوردہ نفسیات (defeatist mentality)

میں مبتلا ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں جی رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں شکست کھا گئے ہیں۔ اب ایک خطیب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ لفظوں کی دنیا میں فاتحانہ مظاہر ہ کر کے مسلمانوں کو یہ تسکین دیتا ہے کہ خواہ مقابلے کے میدان میں ہم دوسروں سے ہار چکے ہوں، لیکن اسٹیج کے اوپر ہم اُن کو شکست دے رہے ہیں۔ یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر مسلمان ایسے خطیبوں کی باتوں پر تالیاں بجاتے ہیں اور اُس وقت خوب خوش ہوتے ہیں، جب کہ خطیب اسٹیج پر کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے ؀ ان سب لوگوں کے اوپر بلڈوزر چلا دو:

Bulldoze them all!

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں وسیع پیمانہ پر یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ آج کے انسان کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ مگر یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کہ انسان کو اسلام پھولوں کا ایک گلدستہ معلوم ہو نہ کہ کانٹوں کا ایک مجموعہ۔ وہ جب اسلام کا تعارف پائے تو اسے محسوس ہو کہ وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہے۔ یہ عین وہی دین رحمت ہے جس کی تلاش میں وہ مدتوں سے سرگرداں تھا۔ لیے داعی کو مدعو کی زیادتیوں پر ایک طرفہ صبر کرنا ہے۔ یہ صبر اس لیے ہوتا ہے تا کہ داعی اور مدعو کے درمیان اعتدال کی فضا باقی رہے، وہ کسی حال میں بگڑنے نہ پائے۔ آج کا انسان مذہب امن کی تلاش میں ہے۔ ایسی حالت میں اہلِ اسلام کو یک طرفہ صبر کر کے ہر حال میں ٹکراؤ کی روش سے باز رہنا ہے، تا کہ اسلام کے مذہب امن ہونے کی حیثیت مدعو کی نظر میں مجروح نہ ہونے پائے۔ انسان دین روحانیت کی تلاش میں ہے ۔ ایسی حالت میں اسلام کے داعیوں کو آخری حد تک اس سے پر ہیز کرنا ہے کہ وہ اسلام کو اس انداز سے پیش کریں کہ جدید انسان کو وہ صرف سیاسی اور حکومتی نظام کی کوئی اسکیم نظر آئے۔ آج کا انسان اسلام کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے، اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اسلام کا طالب ہے۔ دعوت کا عمل اگر درست طور پر کیا جائے تو بیشتر انسان اسلام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔

Printed page