Al-Risala · August 2019

اسلام دورِ جدید میں

Al-Risala, August 2019, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے۔ اسی لیے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشے کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کا کام کر رہی کچھ اور ادارے قرآن و حدیث کا متن صحت وصفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں، مگر بہر حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوت دین کے کام۔ تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے، وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتی کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے، اور کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کر رہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کر رکھا ہے اور کہیں نظامی تاہم سارے فرق و اختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے۔ حریفوں کے خلاف محاذ کے نام سے نقصان میں اضافہ کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کار کردگی کا ثبوت دیا ہے۔ خدا نے دعوت حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کر کے انھیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا

کی اس اسکیم سے باخبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انھوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے۔ مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔

قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرے (الحج، 22:40)۔ ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارہ کو سمجھیں، اور خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں، جنھوں نے اپنے زمانہ میں خدائی منصوبہ کو سمجھا، اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔ بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبہ کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تا کہ خدا اپنے کائناتی نظام کو اس کے موافق کر کے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتا ہے۔ طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جو کام پہلے حیوانی رفتار سے کیا جاتا تھا اس کو مشینی رفتار کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ موجودہ زمانہ میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دیے تھے اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کے کچھ بندے ان کو استعمال کر کے ان امکانات کو واقعہ بننے کا مگر مسلم قیادت خدا کے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے

نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیے، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہو گئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ کام کی ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھودی۔ یہاں تک کہ شیطان نے دوبارہ قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کوکھڑا کردیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں، اور یہاں پندرہویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جا سکا۔ یہود کا ذکر قرآن میں اصلا خود یہود کے لیے نہیں ہے۔ قرآن میں یہود کا لفظ بطور مثال ہے۔ مثال سے امت محمدی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اس انجام سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے : (ترجمہ) کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے (فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ)، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں (57:16)۔ یہ کسی امت کے دور زوال کی بات ہے، جو طول آمد کے بعد فطرت کے قانون کے مطابق لازماً پیدا ہوتا ہے۔ اس دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں ایمان کا شعور ایک رسمی شعور بن جاتا ہے۔ اس دور میں امت کے افراد کے اندر آخرت کا زندہ احساس باقی نہیں رہتا۔ اس دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں خشیت (ڈر) کی صفت باقی نہیں رہتی۔ ان کے لیے ایمان ایک رسمی عقیدہ بن جاتا ہے۔

Printed page