عظیم قربانی
Al-Risala, August 2019, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی تاریخ میں دو عظیم قربانی مقدر تھی۔ قربانی کے ان دونوں واقعات سے اسلام کی دور رس تاریخ بننے والی تھی۔ پہلی قربانی مکمل طور پر پیش آچکی ہے۔ دوسری قربانی کے پیش آنے کا تاریخ کو انتظار ہے۔ اس دوسری قربانی کا وقت آخری طور پر آگیا ہے۔ پہلی قربانی ایک پراسس (process) کی صورت میں پیش آچکی ہے۔ دوسری قربانی دوبارہ اسی طرح پراسس کی صورت میں پیش آئے گی، ور یہ پراسس عملاً شروع ہو چکا ہے۔
پہلی قربانی وہ تھی، جو ابراہیم، اسماعیل اور ہاجرہ کے ذریعے پیش آئی، اور اس کے انقلابی نتائج کا تجربہ ساری دنیا کو پیش آرہا ہے۔ اس عظیم قربانی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَفَدَیْنَاہُ بِذۡبۡحٍ عَظِيۡمٍ (37:107)۔ یعنی ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا۔ پیغمبر ابراہیم کا زمانہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم عراق میں پیدا اس وقت دنیا میں مطلق شہنشاہیت (despotism) کا دور تھا۔ کچھ سیاسی خاندانوں نے جابرانہ بادشاہت قائم کر رکھی تھی۔ ان کے پاس نہایت طاقت اور فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنے خلاف بغاو ت کو طاقت سے کچل دیتے تھے۔ اس دور میں دو بڑی بادشاہتیں قائم ہو گئی تھیں ـــ بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) اور ساسانی سلطنت (Sassanid Empire)۔
پیغمبر ابراہیم، ان کے بیٹے اسماعیل اور ان کی بیوی ہاجرہ کی غیر معمولی قربانی کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک قوم تیار ہوئی۔ اس قوم کو ایک مستشرق نے نرسری آف ہیروز کا نام دیا ہے۔ یہ قوم ابراہیم اور اسماعیل کی قربانی سے عرب میں بنی، پھر اس قوم کا ٹکراؤ مذکورہ دونوں سلطنتوں سے اس سے پہلے خود ان دونوں سلطنتوں کا باہمی ٹکراؤ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں کمزور اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الروم کی ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عرب نسل کو جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے، یہ موقع ملا کہ وہ دونوں سلطنتوں کو ایک کے بعد ایک شکست دے کر
ان کا زور پوری طرح توڑ دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اب ان جابر سلطنتوں کا زور ساری دنیا سے پوری طرح ختم ہو گیا ، اور ساری دنیا میں آزادی کا دور آ گیا۔
دوسرے دور کا انقلاب بالقوہ طور پر (potentially) پیش آ چکا ہے۔ اب اس پوٹینشل کو اویل (avail) کرنا ہے۔ یہ پوٹینشل موجودہ زمانے کا وہ انقلاب ہے ، جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کی بنا پر پہلی بار تاریخ میں کسی مشن کی عالمی اشاعت کا موقع پیدا ہوا ہے۔ اس دور کو قرآن کی اشاعت کے لیے بھر پور طور پر استعمال حدیث میں جس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے ، اس سے مراد یہی گلوبل دعوہ (global dawah) ہے۔ اسی گلوبل دعوہ کو موجودہ ایج آف کمیونی کیشن میں آخری آسمانی کتاب قرآن کے حق میں استعمال کرنا ہوگا ، اور پھر انسان کے اوپر آخری حجت تمام ہو جائے گی۔
جو لوگ اس امکان کو دریافت کریں ، اور قربانی کی سطح پر اس کو بروئے کار لانے کی جدوجہد کریں ، ان کے لیے تاریخ کا عظیم ترین انعام مقدر ہے۔ یہ واقعہ حدیث کے الفاظ میں اللہ کے نزدیک شہادتِ اعظم ہوگا ، اور اس کے لیے اللہ کی طرف سے جزائے اعظم ، یعنی اعلیٰ فردوس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دورِ آخر کی یہ شہادتِ اعظم کسی مسلح کارروائی کے ذریعے نہیں ہوگی۔ یہ مکمل طور پر ایک پر امن واقعہ ہوگا۔ اس واقعے کو بروئے کار لانے میں پیش کرنے والے جو قربانی پیش کریں گے ، وہ گردن کاٹنا یا کٹوانا نہیں ہوگا ، یہ تمام تر ایک پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے ذریعے وجود میں آئے گا۔ یہ امنگوں کی قربانی (sacrifice of aspirations) کا معاملہ ہوگا۔ شہادتِ اعظم یا عالمی دعوت کا یہ واقعہ اس طرح ہوگا کہ اس کے لیے کچھ لوگ اپنے آپ کو بھر پور طور پر وقف (dedicate) کریں گے ، وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیت کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے دعوتی مشن کے لیے استعمال کریں گے۔