دشمن اگر قوی است ، نگہباں قوی تر است
Al-Risala, January 2019, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی دشمن اگر قوی ہے، تو نگہبان اس سے بھی زیادہ قوی ہے :
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ پیش آتا ہے، وہ براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے یعنی حالات کا اہتمام خدا کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف یہ ہے کہ وہ مثبت رسپانس (positive response) دیتا ہے، یا منفی رسپانس (negative response)۔ وہ یا تو ایک قسم کا رسپانس دے کر کریڈٹ (credit) پاتا ہے، یا دوسرے قسم کا رسپانس دے کر اپنے آپ کو ڈس کریڈٹ (discredit) کرلیتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کے بارے میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے صبری سے بچائے اور بہتر انجام کے لیے خدا سے دعا کرتا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر بھی پڑھو، اور تلاوتِ کلام پاک دونوں ایک عمل ہیں | یہ دونوں اچھے اعمال ہیں اور اس کا پڑھنا ایک عمل ہے اور دعا بھی ایک عمل۔