Al-Risala · January 2019

ایک سوال

Al-Risala, January 2019, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر علماء یہ سوال کرتے ہیں کہ صاحب الرسالہ کا منہج اخذ واستدلال کیا ہے؟ میں جواب مطلوب ہے۔ (حافظ سید اقبال عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)

اس معاملہ میں ہمارا منہج وہی ہے جو عملاً تمام علما کا معروف منہج ہے۔ اس منہج کی اصل صحابی رسول حضرت معاذ بن جبل کی حدیث میں موجود ہے۔ یہ حدیث سنن الترمذی، ابو داود، اور مسند احمد وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي؟ ، فَقَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ ، قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ، قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي، قَالَ : الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1327)۔ معاذ بن جبل کے بعض ساتھیوں سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو پوچھا: تم کس طرح فیصلہ کرو گے۔ انہوں نے کہا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پوچھا: اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ؟ انھوں نےکہاکہ رسول اللہ کی سنت کے مطابق (فیصلہ کروں گا)۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر سنت رسول میں بھی انھوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا: اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی۔

اس حدیث کو بعض علماء نے ضعیف بتایا ہے۔ لیکن یہ تضعیف خالص فنی بنیاد پر ہے۔ چہ دوسرے علماء نے اس کی تصحیح کی ہے، مثلاً ابن القیم الجوزیہ ۔ اس فنی بحث سے الگ ہو کر دیکھا جائے تو عملاً تمام علماء نے اس روایت کو تسلیم کیا ہے۔ کیوں کہ تمام علماء کے متفقہ مسلک کے مطابق

مصادرِ شریعت چار ہیں، قرآن، سنت، قیاس، اور اجماع۔ یہ مسلک عین معاذ بن جبل کی روایت کے میں صرف یہ کہوں گا کہ باعتبار حقیقت مصادرِ شریعت چار نہیں ہیں، تین ہیں۔ قیاس اور اجماع دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جب قیاس کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد انفرادی قیاس ہوتا ہے اور جب اجماع کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد اجتماعی قیاس۔ قیاس اور اجماع دونوں کی اصل اجتہاد ہے۔

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ قرآن میں اجتہاد کا لفظ نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے ہم معنی دوسرا لفظ آیا ہے، اور وہ استنباط (النساء، 4:83) ہے۔ اجتہاد اور استنباط دونوں کا مشترک مفہوم ایک ہے، اور وہ استخراج (inference) ہے۔ جب کسی معاملہ میں حکم شرعی منصوص انداز میں موجود ہو تو وہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی معاملہ کا حکم بشکل نص موجود نہ ہو تو وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ غور وفکر کر کے متعلقہ معاملہ میں حکم کی شرعی تطبیق (application) کو دریافت کیا جائے۔ اسی عمل کو استخراج کہا جاتا ہے۔ یعنی نَصِّ شرعی کے حدود میں رہتے ہوئے، بطریق استنباط متعلقہ معاملہ کا حل تلاش کرنا۔

مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے۔ یہ ذہن فطری طور پر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے۔ وہ قومی تعصب سے یکسر خالی وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ہم اور وہ“ (We and They) کے تصور سے نا آشنا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے مومن کا تصور ہم اور ہم (We and We)

کے تصور پر مبنی ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے۔

Printed page