Al-Risala · September 2019

خدا کا تخلیقی منصوبہ

Al-Risala, September 2019, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے اس تخلیقی منصوبے کے آغاز کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : ”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتا ہوں جو تم اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔

اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔

ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگر چہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی پورے مجموعے میں سے مطلوب افراد کا انتخاب کرنا۔ تخلیق کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ انسان اِسی سیارہ ارض پر معیاری نظام بنائے، بلکہ تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر نسل میں سے اُن افراد کو منتخب کیا جائے، جو کامل آزادی کے با وجود اپنے آپ کو بطور خود ضابطہ خداوندی کا پابند بنا لیں۔ معیاری افراد کا انتخاب خدا کے اِس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، خالق نے موجودہ دنیا کو اس لیے نہیں بنایا ہے کہ یہاں مجموعے کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کر رہے ۔ اس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے، اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔

موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابلِ رد تھا اور ہابیل، قابل قبول ۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں پوری طرح جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کر رہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کر رہا ہے۔ ردّ و قبول کے اِسی معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ، وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (40-56: 39)۔ یعنی اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ، اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔

قابل قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہو جائے گی تو اس کے بعد خالق کائنات موجودہ دنیا کو ختم کر کے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی، جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ قابلِ قبول افراد اس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف و حزن سے

پاک زندگی گزاریں گے۔ اس کے برعکس، ناقابلِ قبول افراد کو رد کر کے کائناتئی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ ابدتک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔

Printed page