Al-Risala · September 2019

انسان سے مطلوب

Al-Risala, September 2019, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ ساتھ فرمایا کہ انسان کو اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا گیا ہے (التین، 5-95:4)۔ لفظی معنی میں نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے جنت سے مشابہ دنیا ہے (البقرۃ، 2:25)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ نفسیاتی معنی میں احساسِ محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق ( high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی نعمتیں انسان کو فل فل منٹ (fulfillment) کے درجے میں تسکین نہیں دیتیں۔ خواہ انسان کو دنیوی نعمتیں کتنی ہی زیادہ حاصل ہو جائیں۔ مثلاً امریکا کے بل گیٹس (Bill Gates) کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ چنانچہ انھوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ چیریٹی میں دے دیا۔ امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump) کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کو کوکون (cocoon) بتایا۔

اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو جنت کے مشابہ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ دنیا کی جنت خود جنت نہیں ہے، بلکہ وہ جنتِ آخرت کا ابتدائی تعارف ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو دیکھ کر جنت آخرت کو دریافت اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو، اور لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ (14:7) کے مطابق وہ جنتِ آخرت کا مستحق بنے، یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔

Printed page