Al-Risala · September 2019

نجات آخرت

Al-Risala, September 2019, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کی ایک روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں : لَا يَدْخُلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2817)۔ یعنی تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور نہ ہی آگ سے پناہ دے گا، اور نہ میں، سوائے اس کے کہ اللہ کی رحمت کے ذریعے ایسا ہوگا۔ اس قسم کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کسی بھی انسان کے لیے اس کے عمل کا معاوضہ ایسا نہیں ہے کہ اگر کسی چیز کی ضروری قیمت آپ کے جیب میں موجود ہے، تو آپ شاپنگ سینٹر سے اس کو قیمت دے کر خرید سکتے ہیں۔ جنت کا معاملہ کسی بھی درجے میں "خرید و فروخت" جیسا نہیں ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ جنت کسی شخص کو عمل کے بغیر نہیں ملے گی۔ معنوں میں کسی کے لیے جنت کا داخلہ صرف عمل کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ اللہ کی رحمت کی بنیاد پر ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ابدی جنت اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار اس کا معاوضہ نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی عمل کی حیثیت ابتدائی استحقاق کے لیے ہے، نہ کہ جنت میں فائنل داخلے کے لیے۔

جنت کا ملنا کسی کے لیے انعامی ٹکٹ کی مانند نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ انسان کو ایمان کی توفیق ملنا، استقامت کے ساتھ عمل صالح پر قائم رہنا، غلطی کے بعد سچی توبہ کرنا، عذر کو عذر بنائے بغیر صراط مستقیم پر قائم رہنا، ہر صورت حال میں اپنے آپ کو منفی جذبات سے پاک رکھنا— اس طرح کے بے شمار مواقع ہیں، جہاں انسان صرف اپنی کوشش سے عمل صالح پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس طرح کے ہر موقعے پر ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ کی توفیق مسلسل طور پر حاصل رہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو یہ معاملہ صرف داخلہ جنت کا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ توفیق ایمان سے لے کر موت تک مسلسل طور پر آدمی کو اللہ کی مدد حاصل رہے۔

Printed page