Al-Risala · September 2019

جنت اور انسان

Al-Risala, September 2019, pp. 13–16

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت اور انسان ایک دوسرے کا مثنی (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے جنت مطلوب انسان ہے، اور انسان مطلوب جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جاسکیں۔ قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (4:147)۔ یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ برے اعمال کر کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں اور پھر آخرت میں پہنچ کر وہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔ مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات 1310ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإيمان:معرفة المنعم، والشكر : الاعتراف بالنعمة (تفسير النسفي، 1/259) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessings) ہے۔ اس انعام کے لیے دل سے منعم (giver) کا معترف ہونا، بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔

جنت کی دریافت سال 1983ء کے اوائل میں سپرنٹنڈنگ انجینئر مسٹر غالباً 1983 کی بات ہے۔ اُس وقت دہلی میں ایک انگریز مسٹر جان بٹ (John Butt) انہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی تھیں اور میری فکر سے کافی مانوس ہو چکے تھے۔ ملاقات کے دوران ایک بار میں نے اُن سے کہا کہ قلم میری محبوب چیز ہے۔ میں نے بہت سے قلم استعمال کیے، مگر مجھے اپنی پسند کا قلم ابھی تک نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی لندن جانے والا ہوں، وہاں سے میں آپ کے لیے ایک اچھا قلم لے آؤں گا۔

کچھ عرصے کے بعد وہ مجھ سے ملے، اور انگلینڈ کا بنا ہوا ایک قلم مجھے دیتے ہوئے کہا کہ میں نے لندن اور آکسفورڈ کی مارکیٹ میں کافی تلاش کے بعد یہ قلم (فاؤنٹین پین) حاصل کیا ہے۔ مجھے امید نہیں کہ یہ قلم آپ کی پسند کے مطابق ہوگا۔ میں نے کہا، کیوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ ایک پرفیکشنسٹ (perfectionist) ہیں اور دنیا میں چونکہ کوئی بھی قلم پرفیکٹ قلم نہیں، اس لیے آپ کو کوئی بھی قلم پسند نہیں آئے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر پرفیکشنسٹ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک کمال پسند حیوان ہے :

انسانی فطرت کا یہی خاص پہلو ہے جس کی بنا پر ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ محرومی (deprivation) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ حتی کہ وہ لوگ جو دنیا کا ہر سامان حاصل کر لیتے ہیں وہ بھی محرومی کے احساس سے خالی نہیں ہوتے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے پرفیکشنسٹ ہے مگر جس دنیا میں وہ رہتا ہے اُس کی کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں۔ اس طرح انسان کی طلب اور دنیا کی قابل حصول چیزوں کے درمیان ایک عدم مطابقت (incompatibility) پیدا ہوگئی ہے۔ دونوں کے درمیان یہی

انسان اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے دنیا میں جدوجہد شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ دولت، اقتدار، سازوسامان اور دوسری مطلوب چیزیں حاصل کر لیتا ہے۔ کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی مطلوب چیزوں کو پانے کے بعد بھی وہ بدستور محرومی کے احساس سے دوچار ہے، اب بھی وہ یافت کے احساس تک نہ پہنچ سکا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ پانے سے پہلے وہ سمجھتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کی آرزو وہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہے۔ مگر چیز کو پانے کے بعد اُس کو وہ تسکین نہیں ملتی جو کسی مطلوب چیز کی یافت سے کیوں کہ اُس کے دل میں جو آرزو تھی وہ پر فیکٹ چیز کے لیے تھی۔ جب کہ دنیا کی ہر چیز غیر پرفیکٹ (imperfect) ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی پرفیکشنسٹ کو غیر پر فیکٹ میں تسکین نہیں مل سکتی۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی جنت کو اپنا نشانہ بنائے۔ معنوں میں ایک پرفیکٹ ورلڈ (perfect world) ہے، جب کہ اُس کے مقابلے میں موجودہ دنیا صرف ایک اَم پر فیکٹ ورلڈ (imperfect world) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے جس پرفیکٹ ورلڈ کا طالب ہے، وہ جنت ہے۔ جنت کی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے آدمی موجودہ دنیا میں اپنی آرزوئیں تلاش کرنے لگتا ہے اور اپنی فطرت اور خارجی دنیا کے درمیان عدم مطابقت کی بنا پر محرومی کے احساس کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ شعوری انقلاب لایا جائے کہ وہ جنت کی معرفت حاصل کر سکے۔ اس معرفت کے حصول کے بعد اُس کی مایوسی کا احساس اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہ جان لے گا کہ جن چیزوں میں وہ اپنی آرزوؤں کی تسکین ڈھونڈھ رہا ہے، اُن میں اُس کے لیے تسکین کا سامان موجود ہی نہیں۔ اس دریافت کے بعد اُس کی تو جہ جنت کی طرف لگ جائے گی۔ اس کے بعد وہ موجودہ دنیا کی چیزوں کو ضرورت کے طور پر لے گا، نہ کہ مطلوب کے اور جب کسی آدمی کے اندر یہ سوچ پیدا ہو جائے تو اُس کے بعد اُس کا حال یہی ہوگا کہ وہ یافت کے احساس میں جینے لگے گا، نہ کہ محرومی کے احساس میں۔

موجودہ دنیا پانے سے زیادہ کھونے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر مرد اور عورت کو بار بار یہ احساس

ہوتا ہے کہ فلاں چیز اُس سے کھوئی گئی۔ فلاں موقع اُس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ فلاں شخص نے اُس کو اس قسم کے چھوٹے یا بڑے حادثات ہر ایک کو بار بار پیش آتے ہیں۔ کسی بھی مردیا عورت کے لیے ان نقصانات سے بچنا ممکن نہیں۔

اس قسم کے نقصانات ہر ایک کو پیش آتے رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان نقصانات کی تلافی کی صورت کیا ہے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ جنت کا یقین ہے۔ جس آدمی کو خدا کی جنت پر یقین ہو اس کا حال یہ ہوگا کہ ہر نقصان کے بعد وہ یہ کہہ سکے گا کہ دنیا کا یہ نقصان تو بہت جنت کے مقابلے میں اس نقصان کی کوئی حقیقت نہیں۔ دنیا کے ہر نقصان کے بعد وہ اور زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ وہ خدا سے اور زیادہ جنت کا طالب بن جائے گا۔ قرآن میں جنت کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہاں آباد ہونے والے لوگوں کے لیے نہ خوف ہوگا اور نہ حزن (البقرہ، 38)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو جو زندگی ملتی ہے وہ کبھی اور کسی کے لیے خوف اور حزن سے خالی نہیں ہوتی۔ موجودہ دنیا کا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ یہاں حقیقی معنوں میں خوف اور حزن سے خالی زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں آدمی کے لیے واحد درست رویہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود نہ بنائے۔ وہ دنیا کو صرف یہ حیثیت دے کہ وہ حقیقی منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے۔

اسی حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ اِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2961)۔ یعنی راحت اور مسرت کا حصول صرف آخرت میں ممکن ہے۔ دنیا میں راحت و مسرت تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر ریلوے اسٹیشن پر اپنے لیے ایک آرام دہ گھر بنانے کی کوشش کرے۔ ہر مسافر جانتا ہے کہ اسٹیشن گھر بنانے کے لیے نہیں ہوتا۔ موجودہ دنیا عمل جنت کے لیے ہے، نہ کہ تعمیر جنت کے لیے۔ جنت کو اپنی منزل مقصود بنانا صرف عقیدے کی بات نہیں، وہ مقصد حیات کی بات ہے، ایسا مقصد جس کے سوا کوئی اور مقصد انسان کے لیے ممکن نہیں۔

Printed page