جہاد فی اللہ
Al-Risala, September 2019, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد کی ایک قسم وہ ہے جس کو قرآن میں جہاد فی اللہ (الحج، 78: کہاگیا ہے۔ اللہ میں جہاد کیا ہے۔ اللہ میں جہاد ہے آیاتِ اللہ(signs of God) میں غور وفکر تخلیق میں چھپی ہوئی حکمت(wisdom) کو دریافت کرنا۔ جہاد فی اللہ کی ایک مثال قرآن میں وہ ہے، جو پیغمبر ابراہیم کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (الانعام، 6:75)۔ یعنی آسمان اور زمین کے عجائبَات(wonders)۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: أَوَ لَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ (7:185)۔ یعنی کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام پر غور نہیں کیا، اور ان چیزوں پر جو اللہ نے پیدا کی ہیں۔ اللہ کے پاس عطیات کا خزانہ اتنا بڑا ہے کہ اگر وہ ہر ایک کو اس کی طلب کے مطابق دے دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانِ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمُخِيطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2577)۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن وانْس ایک کھلے میدان میں جمع ہو جائیں، اور مجھ سے سوال کریں پھر میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔
غالباً اسی حقیقت کا ادراک (realization) پیغمبر سلیمان کی زبان سے دعا کی صورت میں ہوا تھا، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (38:35)۔ یعنی اے میرے رب، مجھ کو معاف کر دے اور مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو، بیشک تو بڑا دینے والا ہے۔
سلیمان بن داؤد کو ان کی دعا کے مطابق انوکھے قسم کا سیاسی اقتدار عطا کیا گیا، جو ان کے سوا کسی اور انسان کو کبھی نہیں ملا۔ لیکن خدا کے خزانے میں عطیے کی یہی ایک انوکھی صورت نہیں ہے جو حضرت سلیمان کو عطا ہوئی۔ اس کے سوا دوسری ہزاروں صورتیں ہیں، جو تاریخ میں دوسرے انسانوں کو عطا ہوئیں۔ اسی طرح عطیات کے دوسرے بہت سے میدان ہیں جو دوسرے انسانوں کو عطا عطیات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایک منفرد عطیہ الہی کا طالب بنے، اور اللہ اس کے استحقاق کو دیکھ کر یہ منفر دعطیہ اس کو دے دے۔ عطیہ الہی کی ایک مثال حکمتِ خداوندی ہے۔ اس کائنات میں حکمتِ خداوندی (divine wisdom) کے بے شمار آئٹم ہیں۔ اگر کوئی انسان سچے دل سے اس کا طالب بنے کہ اس کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دیا جائے، جو کسی اور کو نہ ملا ہو تو یقیناً اللہ اس پر قادر ہے۔ اس نے جس طرح حکم کی ایک صورت سلیمان بن داؤد کو دی، جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی، نہ ان کے بعد۔ اسی طرح اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ کسی طالب کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دے، جو نہ اس سے پہلے کسی کو ملا ہو، نہ اس کے بعد کسی کو ملے ۔ اور اس عطیہ کے باوجود اللہ کے خزانے حکمت میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ اسلامی جہاد کا سب سے بڑا میدان تدبر ہے یعنی فکری جہاد (intellectual jihad)۔ فکری جہاد سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔ اسی حقیقت کو ابن عباس اور ابو الدرداء نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ (العظمة لابي الشيخ الاصبهانی، اثر نمبر 42 ؛ حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 208)۔ یعنی ایک ساعت کے لیے تفکر کرنا رات میں قیام (اللیل) سے بہتر ہے۔ فکری جہاد سب سے بڑا جہاد اس لیے ہے کہ وہ معرفت اور دعوت سے جڑا ہوا ہے۔ جہاد کی ایک مثال صحابی رسول ابو ذر کی ہے۔ ان کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ وہ رات دن سوچتے رہتے تھے (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 164)۔ یہ فکری جہاد بلا شبہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ سبب یہ ہے کہ فکری جہاد کا رشتہ معرفت اور دعوت الی اللہ سے جڑا ہوا ہے۔ فکری جہاد کے ذریعے جب کسی شخص کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے
کہ وہ آیات اللہ (signs of God) اور آلاء اللہ (Marvels of Nature) کو زیادہ سے زیادہ دریافت کریں اور اس طرح خالق کے بارے میں اپنی معرفت کو بے پناہ حد تک بڑھاتا چلا اسی طرح جو شخص فکری جہاد کرے، وہ اپنے داعیانہ صلاحیت میں بہت اضافہ کرے گا۔ کا فکری مستوى (intellectual level) بہت بڑھ جائے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے۔
فکری جہاد کا فائدہ دنیا سے آخرت تک چلا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔ یہ پہلی آیت مومن کے اس درجہ معرفت کو بتاتی ہے، جو ایک مومن فکری جہاد کے ذریعے دنیا کی زندگی میں حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے تو جنت میں ان کے آخر قول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَاخرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (10:10) ۔ یعنی اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن موجودہ دنیا میں فکری جہاد اس لیے کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر ذہنی ارتقا کا درجہ حاصل کرے ۔ قرآن میں جنت کو دارالمتقین (النحل، 16:30) کہا گیا ہے۔ انسانی زبان میں اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جنت ایسے انسانوں کا مقام ہے، جو مجلس خداوندی میں کلام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ دنیا میں فکری جہاد کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں وہ خداوندی سطح پر کلام کرنے کے قابل ہو چکا ہو۔
اسلام میں جہاد کا مطلب قتال (جنگ) نہیں ہے، بلکہ پر امن جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ کسی دوسرے کی گردن کاٹنا نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے راستے میں مشقت کے مراحل سے گزارتے ہوئے ثابت قدم رہنا۔ مشقت کے یہ مراحل آدمی کے اندر ایک نفسیاتی ہیجان پیدا آدمی درد و کرب کے لمحات سے گزرتے ہوئے اللہ کو پکارتا ہے۔
یہ پکار (دعا) سادہ طور پر کچھ الفاظ کو زبان سے دہرالینا نہیں ہے، بلکہ فکر کے مراحل ہیں، یعنی
جب آدمی اس قسم کے لمحات سے گزرتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر گہری فکر (deep thinking) آجاتی ہے۔ وہ وزڈم کی اس اعلیٰ سطح پر آجاتا ہے جہاں اللہ سے اس کا گہرا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کا ہو جاتا ہے، اور اللہ اس کا۔ جنت کی سرگرمیاں جنت کے بارے میں قرآن میں مختلف بیانات آئے ہیں۔ ایک بیان یہ ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۔ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا۔ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ یعنی بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔ یہاں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کی زندگی اتنی خوشگوار ہوگی کہ وہ کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں اس کے بعد اگلی آیت یہ ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ کتنا ہی زیادہ ان کو لکھا جائے، وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں اہل جنت کا ایک مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ کا مطالعہ کریں، وہ کلمات اللہ کو دریافت کریں، اور پھر کلمات اللہ کو قلم بند کریں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت میں اہل جنت کی مشغولیت اسی قسم کی ہوگی، جو موجودہ دنیا میں سائنسدانوں کی ہوتی ہے۔ برطانی سائنسدان نیوٹن (1727-1643) سے اس کے علم کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس نے کہا کہ جو ہم جانتے ہیں، وہ ایک قطرہ ہے، اور جو کچھ ہم نہیں جانتے ہیں، وہ ایک سمندر ہے: What we know is a drop, what we don't know is an ocean. یہی تجربہ اہل جنت کے ساتھ جنت میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ ہوگا۔