Al-Risala · January 2019

ایک انٹرویو

Al-Risala, January 2019, pp. 43–50

By Maulana Wahiduddin Khan

مندرجہ ذیل انٹرویو ریاض (سعودی عرب) سے شائع ہونے والے مجلہ اوج (مطبوعہ شمارہ نمبر 4، نے لیا تھا۔ یہاں اس انٹرویو کا متعلقہ حصہ نقل کیا جا رہا ہے: سوال: مسلمانوں کی اکثریت یہ محسوس کرتی ہے کہ اس وقت مادی و الحادی فکر اور اسلام و ایمان کے درمیان ایک آئیڈیولوجیکل ٹکراؤ ہے۔ چوں کہ ہر ٹکراؤ کا ایک اسلحہ ہوتا ہے، تو ان مادی اور الحادی فکر رکھنے والوں کا مشہور ہتھیار کیا ہے، جس کے ذریعہ وہ دورِ جدید میں اہلِ ایمان اور مسلم نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں؟

جواب: اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کے اندر تبدیلی آئی بیسویں صدی کا دور نظریاتی دور تھا۔ اس زمانے میں چیزوں کو نظریاتی اعتبار سے جُج (judge) کیا جاتا تھا۔ مگر مارکسزم کے زوال کے بعد یہ ذہن ختم ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں چیزوں کو ان کی افادیت کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اگر نظریے کا حوالہ دیں تب بھی حقیقت میں ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ مادی ترقی کے اعتبار سے وہ کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مسلمان چوں کہ ابھی تک روایتی دور میں جی رہے ہیں، اس لیے نئے دور کے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے ساتھ ترقی کا سفر جاری نہیں ہو سکتا۔ لوگ خواہ الفاظ جو بھی بولیں، لیکن پس منظر میں جو بات ہوتی ہے، وہ یہی ہے کہ اسلام کے روایتی وزن کو لے کر ترقی کا سفر طے نہیں کیا اسلام کے روایتی ورژن کی پیروی کرنے سے مسلمان مستقل طور پر پسماندہ کمیونٹی بنے رہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو اس کے روایتی وزن سے نکال کر ماڈرن ایج کے اعتبار سے اس کو متعارف کرانا ہوگا۔ تا کہ اسلام دورِ جدید کے لوگوں کو سمجھ میں آ سکے۔ یہ اسلام کی تعلیمات میں تبدیلی کی بات نہیں ہے، بلکہ دورِ جدید کی زبان میں اسلام کو متعارف کرانے کی بات ہے۔

سوال: دورِ جدید میں پھیلنے والے لامذہبیت اور سیکولرزم کا سبب کیا ہے، آپ کی نظر میں اس کا علاج کیا ہوسکتا ہے؟

جواب: یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ دراصل اسلام کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کے روایتی وزن کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کے روایتی وزن کے اعتبار سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام کا تعلق زندگی کے سارے پہلو سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی سوچ سب سے بڑا سبب ہے کہ مسلمانوں کا ذہن طبقہ کیوں سیکولرزم کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ سوچ بذات خود غلط ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اسلام کا تعلق اصلاً انسان کے مذہبی امور سے ہے، جیسا کہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا: إِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ، وَإِذَا كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ (مسند احمد، حدیث نمبر 24920)۔ یعنی کوئی چیز اگر دنیا کے معاملہ سے متعلق ہو تو تم اس کو زیادہ جانتے ہو اور اگر وہ بات دین کے متعلق ہو تو اس کی ذمے داری میرے اوپر ہے۔

مذہبی دائرے کے سوا اسلام انسان کو پوری آزادی دیتا ہے۔ مثلاً روایتی اسلام میں رسول اللہ کے بارے میں کوئی کریٹیکل کمنٹ دینا شتم رسول کا حکم رکھتا ہے، اور شتم رسول ایک ایسا جرم ہے، جس کی سزا قتل ہے۔ جب کہ قرآن وسنت دونوں میں اس پر سزا کا براہ راست ثبوت نہیں ملتا۔ تفصیل کے لیے میری کتاب ، شتم رسول کا مسئلہ ملاحظہ ہو۔

شتم رسول پر سزا آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں۔ موجودہ زمانے کی فکر، اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) پر قائم ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام کے ساتھ دنیا میں ترقی نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اسلام ان مسائل کی بنیاد پر دوسری قوموں سے اتحاد میں رکاوٹ ہے، اور اتحاد کے بغیر ترقی کا کوئی پلان نہیں بنایا جا سکتا۔ جدید ذہن کے لیے اسلام کا یہ نظریہ مستقل طور پر قیام امن میں رکاوٹ ہے، اور قیام امن کے بغیر کوئی ترقی کا کام عملاً ممکن ہی اس معاملے کا حل صرف اسلام کے پرامن پیغام کو عام کرنا اور شتم کرنے والے کے ساتھ اس معاملے میں افہام و تفہیم کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔

سوال: آپ مسلم مفکرین اور لکھنے والوں کو کیا نصیحت کرنا چاہیں گے، بطور خاص اس لیے کہ آپ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آپ نے جب بھی کسی فکر پر تنقید کرنے کا ارادہ کیا، تو اس کے بارے میں ہزاروں صفحات پڑھا ہے؟

جواب: مسلم مفکرین اور لکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جدید فکر (modern thought) ان کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ مگر بہ غور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو جدید فکر کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام مخالف نہیں ہے، وہ عین موافق اسلام ہے۔ مسلم مفکرین کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے جدید فکر یا جدید تہذیب کو اسلام کا مخالف سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اور جدید ذہن کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو گیا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ذہن اور جدید تہذیب پوری کی پوری اسلام کے موافق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو اسلام اور جدید فکر میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔

اصل مسئلہ فکر جدید کو بدلنے کا نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ اس کے بعد کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا مزاج یہ تھا کہ ہر نئی چیز کے خلاف ہو جانا۔ تو جب کلونیلزم کا دور آیا تو وہ ہر چیز کے خلاف ہو گئے۔ اسی چیز نے اصل مسئلہ پیدا کیا۔ تو اسی ذہنیت کو بدلنا میری ان کو نصیحت ہے کہ وہ جدید فکر کے خلاف اپنی منفی مہم کو بند کر دیں۔ سوال: آنے والے دنوں میں آپ اسلام کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟

جواب: اسلام کا مستقبل بہت ہی اچھا ہے، بشرطیکہ مسلمان اپنے کو بدلیں۔ کی کوئی چیز اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن مسلمان ہر چیز کو اسلام کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں، اور ہر چیز کے خلاف لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب پرنٹنگ پریس آیا تو ابتدا ء میں ترکی کے شیخ الاسلام نے اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا۔ یہ دور جدید سے علماء کی بے خبری کا مسئلہ تھا، نہ کہ غیرمسلموں کی اسلام سے مخالفت کا۔ اس لیے ضرورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی سوچ کو بدلیں ۔ سوال: آپ کے بچپن یا جوانی کا کوئی واقعہ، جس کو آپ ابھی تک یاد کرتے ہوں، اور اس کا

آپ کی شخصیت پر آج تک اثر ہو؟

جواب : میں تو سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ جو واقعہ مجھے یا د رہتا ہے، وہ وہی سبق ہے جو میرے استاذ امین احسن اصلاحی سے مجھے ملا۔ ایک روز قرآن کی کلاس میں یہ آیت سامنے آئی: اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (88:17) ۔ یعنی کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا استاذ محترم نے اس موقع پر طلبہ سے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے یعنی بیل کی مانند پھٹے ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند جڑے ہوئے۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریبا 20 طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل پچو سے کبھی ایک جواب دیتا، اور کبھی دوسرا جواب۔

اس موقع پر استاذ محترم نے ہم لوگوں کو سمجھایا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی کا مقولہ سنایا: ادری نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) ۔ اس کی تشریح انھوں نے کی کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمھارے پاس آدھا علم ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری (میں نہیں جانتا) کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے، اور پھر تم اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے ۔ مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملہ میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry) ۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذ بہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تھا۔ مگر اس معاملہ میں وہ اپنے "لا ادری" کو نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے، جس نے اس معاملہ میں اپنے "لا ادری" کو

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ادری‘‘ کے درجہ تک پہنچ گیا۔

اس کے برعکس، مسلم علماء دورِ جدید کو نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے فتویٰ دے کر یہ ظاہر کیا کہ ادری ان العصر الجدید حرام (میں جانتا ہوں کہ دورِ جدید حرام ہے)۔ کہ انھیں کہنا یہ چاہیے تھاکہ لاادری ما ھوالعصر الجدید (میں نہیں جانتا کہ دورِ جدید کیا ہے)۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوتے کہ دورِ جدید کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جب انھوں نے دورِ جدید کو جانے بنا ایک قدم اٹھایا تو اس کے نتیجے میں انھوں نے اس ادری (میں جانتا ہوں) کلچر کی بنیاد پر ہر چیز کو حرام قرار دے دیا، اور یہی وہ چیز ہے جو سیکولر تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اسلام سے دور ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ جب کہ میں ہر چیز کو سب سے پہلے لا ادری (میں نہیں جانتا ہوں) کے خانے میں ڈالتا ہوں۔ اس کے بعد موضوعی اعتبار سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

سوال : وہ کیا پروگرام ہیں، جس کے بارے میں آپ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ اس کو

جواب: میری صرف ایک تمنا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا، روایت کے الفاظ یہ ہیں : لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كِلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا گھر باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا۔ میری خواہش ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ پر اس کا میں حصہ بن جاؤں۔ یہاں تک کہ یہ ریلیٹی بن جائے، اور قرآن کی آیت، لیکون للعالمین نذیرا (25:1)، کے مطابق سارے عالم تک قرآن کا میسج آف انداز پہنچ جائے۔ My greatest desire is to become a part of this historical process, the process of the spreading of the word of God, until it becomes a reality. سوال : آپ کی ایک اہم کتاب الاسلام متھدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہے۔ کیا آپ کا یہ

ارادہ ہے کہ اس کو نئے سائنسی انکشافات کے اعتبار سے اپ ڈیٹ (update) کی جائے، تاکہ وہ موجودہ دور کے اعتبار سے اپ ٹو ڈیٹ (up to date) ہو سکے؟

جواب: جہاں تک کتاب کو اپ ڈیٹ کرنے کی بات ہے، تو میں اس کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس میں جو مباحث موجود ہیں، وہ ابھی تک ریلیونٹ ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ ایک ہسٹاریکل بک بن چکی ہے۔ اس میں کسی اپ ڈیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت میں سارا فوکس دعوت پر دیتا ہوں، اور دعوتی فوکس کے اعتبار سے اس معاملہ میں میری ایک نئی کتاب آئی ہے، یہ کتاب فی الوقت اردو زبان میں موجود ہے۔

سوال: آپ مسلم نوجوانوں کو کن کتابوں کے پڑھنے کا مشورہ دیں گے، تاکہ وہ فکری اعتبار سے مضبوط ہو سکیں؟

جواب: میں انھیں دو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔ ایک ہے، الله يتجلى فى عصر العلم (اردو ترجمہ: خدا موجود ہے)۔ یہ جان کلوور مونسا کی کتاب The Evidence of God in an Expanding Universe کا عربی ترجمہ ہے۔ اس سے انھیں معلوم ہوگا کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں ہے، اور دوسری کتاب جس کو میں پڑھنے کا مشورہ دوں گا، وہ یہ ہے: The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West اس کتاب سے انھیں معلوم ہوگا کہ دور جدید کی فکر کیا ہے۔

سوال: ہم کیوں نوجوان مسلم عورتوں میں دینی انحراف دیکھتے ہیں، اس کا سبب کیا ہے؟ جواب: اس کی وجہ صرف ایک ہے، اسپرٹ (تقویٰ، محبت الہی اور اخلاق) کے بجائے ظواہر دین پر غلو کی حد تک زور دینا۔ مثلاً پردہ پر غیر ضروری زور دینا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو کام پردہ کے باہر جائز نہیں ہے، اس کو انھوں نے پردے کی آڑ میں جائز کر لیا ہے: What is not allowed outside the purdah, they are allowing inside the purdah. اس زمانے میں برقعہ والی عورتیں زیادہ فیشن کرتی ہیں۔ یہ برقعہ پر ظواهر دین پر غلو سے پیدا

ہونے والا ری ایکشن ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی بیوی عائشہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیت نتیجہ خیز کیسے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا: اِنَّمَا نَزَلَ اَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُوْرَةٌ مِّنَ الْمُفَصَّلِ، فِیْهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّی اِذَا ثَابَ النَّاسُ اِلَی الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ اَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ اَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لَا تَزْنُوْا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا اَبَدًا، لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ اَلْعَبُ: بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰی وَاَمَرُّ [54:46] وَمَا نَزَلَتْ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ وَالنِّسَاءِ اِلَّا وَاَنَا عِنْدَهُ (صحیح البخاری، حدیث یعنی سب سے پہلے جو چیزیں نازل ہوئیں، ان میں ایک مفصل کی سورت ہے۔ میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ پھر جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے، اس کے بعد حلال و حرام (کے احکام) اترے اگر ابتدابی میں یہ اترتا کہ شراب نہیں پینا تو لوگ کہتے ہم تو کبھی بھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہیں کرنا تو لوگ کہتے ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بجائے مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: بل الساعة موعدهم والساعة ادھی وامر (بلکہ قیامت ان کے وعدہ کا وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بڑی کڑوی چیز اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔ (اس کے برعکس)، سورۃ البقرہ اور سورۃ النساء اس وقت نازل ہوئی، جب کہ میں (مدینہ میں) آپ کے پاس آگئی تھی۔

سوال: موجودہ دور میں امت کی حالت کے اعتبار سے کمی کہاں ہے؟

جواب: صرف ایک دورِ جدید سے بے خبری۔ موجودہ دور کو سمجھنے کے لیے مودودی اور سید قطب کی کتاب کو نہ پڑھا جائے، بلکہ اس کتاب کو پڑھا جائے:

The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West سوال: آپ کے اعتبار سے قرآن کا مطلوب انسان کون ہے، جیسا کہ آپ کی ایک کتاب بھی اسی نام سے ہے؟

جواب: داعی انسان۔ قرآن کا سب سے زیادہ فوکس دعوت پر ہے، اور قرآن کا مطلوب

انسان وہی ہے جو قرآن سے اس کو دریافت کرے، اور قرآن کا داعی بن جائے۔ سوال: وہ پانچ اہم افکار کیا ہیں، جن پر آپ نے اپنی فکری اور تجدیدی پروگرام میں فوکس کیا؟ جواب: وہ پانچ افکار درج ذیل ہیں:

(1) معرفتِ خداوندی (realization of God)

(2) مثبت سوچ (positive thinking)

Printed page