Al-Risala · September 2019

جنت کی زندگی

Al-Risala, September 2019, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں پہنچیں گے، تو وہ جنتی زندگی کے بارے میں کہیں گے: وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ (35:34)۔ ہے اللہ کا جس نے ہم سے حزن کو دور کر دیا۔ بیشک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے۔ اس آیت میں حزن کا لفظ بہت با معنی ہے۔ حزن کا مطلب ہے، تکلیف (sorrow)۔ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت چیز حزن ہے۔ دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کو دور کرنا، جو انسان کا سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت معاملہ انسان ایک کمزور مخلوق ہے۔ انسان سب کچھ برداشت کر لیتا ہے۔ لیکن حزن (تکلیف) اس سے برداشت نہیں ہوتی۔ انسان کی نسبت سے یہ لفظ ایک بے حد نفسیاتی لفظ ہے۔ سوچے تو جنت میں حزن نہ ہونا، اس کے لیے انتہائی پر کشش لفظ ہے۔ کیوں کہ انسان ایسی جگہ کے لیے سب کچھ کرنے کو راضی ہو جائے گا، جہاں حزن نہ ہو۔ اگر اس کو یقین ہو جائے کہ جنت حزن سے خالی جگہ ہے، تو وہ جنت کو پانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ جنت کا تصور آدمی کو اسی یقین پر جینے والا بناتا ہے۔

جنت میں حزن نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسمانی کرب (physical pain) کی ہر قسم سے جنت محفوظ ہوگی۔ آدمی اگر جسمانی حزن سے بچا ہوا ہو، تو اس کو نیند کے وقت اچھی نیند آئے گی، وہ کھانے کے وقت سکون سے کھانا کھائے گا۔ اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ اس کے لیے زندگی ایک پر سکون زندگی بن جائے گی۔ اس کو دن کا سکون بھی حاصل ہو جائے گا، اور رات کا سکون بھی۔ جو کام بھی وہ کرے گا، معتدل انداز میں کرے گا۔ اس کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ اپنا ہر کام کامل یکسوئی کے ساتھ انجام دے۔ زندگی اسی کے لیے زندگی ہے، جو حزن کی کیفیت سے بچا جو آدمی حزن کی کیفیت میں مبتلا ہو، وہ بظاہر زندہ ہوگا، لیکن اس کی زندگی چین سے خالی ہوگی۔

Printed page