جنت کا استحقاق
Al-Risala, September 2019, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت یہ ہے: جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (98:8)۔ یعنی ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ اس سورہ میں جس دوطرفہ رضامندی کی بات کہی گئی ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ میں اہل جنت کی کہانی اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو اللہ سے راضی ہو گئے۔ اللہ سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمين کے تخلیقی نقشے کے مطابق، بندے کو زندگی گزارنے کا جو نمونہ ملا تھا، بندے نے دنیا میں اس کے مطابق زندگی گزاری۔ بندہ اللہ کے تخلیقی نقشے پر دل سے راضی ہوا۔ اس کے بعد اللہ بھی اس پر راضی ہو گیا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق، ایسے بندے کے لیے اپنی جنت کے دروازے کھول دے۔
انسان کے لیے جنت کوئی خریداری کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ رضامندی کا معاملہ ہے۔ رب العالمين کی رحمت کا معاملہ ہے کہ وہ انسان کے لیے جنت کو رضامندی کا معاملہ قرار دیتا اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے جنت انعام کا معاملہ ہے، لیکن انسان کا درجہ بڑھانے کے لیے اللہ نے اس کو رضامندی کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔ یہی مطلب ہے اس دوطرفہ رضامندی کا۔ جو بندہ اللہ کے تخلیقی نقشے پر راضی ہو جائے، وہ کامل رضامندی کے ساتھ خدا کے بنائے ہوئے نقشۂ حیات پر چلنے لگے گا۔ یہ طریقِ حیات صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہے، جو صرف اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس طریقِ زندگی کو اختیار کرنے کا محرک (incentive) صرف خشیتِ جو آدمی خشیتِ رب سے خالی ہو، وہ ایسے طریقِ زندگی کو اختیار نہیں کرے گا۔ لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ اس کے سفر کی آخری منزل ابدی جنت سے محرومی ہو۔