اُمید کا پیغام
Al-Risala, September 2019, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو دنیا میں طرح طرح کے فتنوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ اس کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ فتنوں کا شکار نہ ہو جائے ۔ چنانچہ اکثر صحابہ اور بزرگوں نے اس حیثیت سے قرآن پر غور کیا ہے۔ ان کی رائیں تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں : وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَوْسَعُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ... وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَهَذِهِ أَرْجَى آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَدَّ عَلَيْهِمُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ أرجى آية في القرآن قول تَعَالَى: وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ (تفسیر القرطبی، جلد 15، صفحہ 269)۔ ابن علی طالب کہتے ہیں کہ قرآن میں اس آیت سے زیادہ وسیع آیت کوئی دوسری نہیں ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ یہ آیت سب سے زیادہ امید والی آیت ہے، ابن عباس نے جب یہ سنا تو کہا کہ اس کے بجائے سب سے زیادہ امید والی آیت یہ ہے: وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ یعنی تمہارا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو معاف کرنے والا ہے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ نے جب تخلیق کا فیصلہ کیا تو اس نے ایک کتاب اپنے پاس لکھی، یہ اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں انسان کو زندگی کا حوصلہ